روس کی جوہری کارپوریشن روساٹم کے سربراہ الیگزی لکاچیف نے ایران کے جوہری توانائی کے پلانٹ بوشہر پر حالیہ حملہ حملے کے بعد پیدا شدہ صورتحال کو خطرناک قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ مسلسل بدترین حالت کی طرف جا رہی ہے۔
بین الاقوامی جوہری توانائی کے ادارے کو ایران کی طرف سے اطلاع دی گئی تھی کہ اس کے بوشہر جوہری پاور پلانٹ کو بمباری کا ہدف بنایا گیا ہے۔ جس سے ممکنہ خطرات کی طرف توجہ دلائی گئی۔
روسی جوہری کارپوریشن کے سربراہ نے کہا حملہ جو شام چھ بجے منگل کے روز ہوا تھا اس سے ابھی تک کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع سامنے نہیں آئی ہے۔ تاہم اس سے قریبی ایریا بھی بمباری کا نشانہ بنا ہے۔ جس میں جوہری توانائی پلانٹ کا آپریشنل حصہ موجود تھا۔
انہوں نے مزید کہا روسی جوہری کارپوریشن نے علاقے سے لوگوں کو نکالنا شروع کر دیا ہے۔ جن میں سے ایک گروپ ایران اور آرمینیا کی درمیانی سرحد کی طرف روانہ ہو رہا ہے۔ جبکہ دو دیگر گروپ بھی فوری طور پر روانہ ہونے والے ہیں۔
کارپوریشن کے سربراہ کے مطابق جب تک بوشہر میں صورتحال مستحکم نہیں ہو جاتی پلانٹ پر کام کرنے والے سٹاف کی تعداد کو کم کیا جائے گا اور یہ انتہائی کم رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔