ایران میں جنگ کے نتیجے میں ملک میں انٹرنیٹ تقریباً مکمل طور پر منقطع ہو گیا، جس کے بعد دنیا بھر کے کارکنان خاص طور پر امریکہ سے نے ایرانی شہریوں کی مدد کے لیے اپنی کوششیں تیز کر دی ہیں تاکہ وہ اسٹارلنک (Starlink) سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس کے ذریعے رابطے میں رہ سکیں۔
اگرچہ ایران میں اسٹارلنک پر پابندی ہے، مگر ارب پتی ایلون مسک کی یہ سروس بین الاقوامی کارکنوں کے ایک نیٹ ورک کی مدد سے ایران میں مقبولیت حاصل کر گئی، جیسا کہ کئی افراد نے بتایا جو اس مہم میں حصہ لے رہے ہیں۔
ان لوگوں کے مطابق یہ کوششیں 2022 میں شروع ہوئیں، جب ایران میں نوجوانہ مہسا امینی کی موت کے بعد بڑے پیمانے پر احتجاج شروع ہوئے۔
مہسا کو ملک کے سخت لباس کے قوانین کی خلاف ورزی پر پولیس اخلاق کے حوالے سے حراست میں لے چکی تھی، اور ان کے انتقال کے بعد ایرانی عوام نے مظاہرے کیے۔
300 ڈیوائسز
اسی سلسلے میں امریکہ میں واقع تنظیم "نیٹ فریڈم پائیونیئرز" کی رکن امیلیا جیمس نے کہا:اس سال تک ہم نے ایران میں 300 سے زائد ڈیوائسز فراہم کر دی ہیں، لیکن ہم نے اس عمل کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں تاکہ کارروائی کی حفاظت اور صارفین کی پرائیویسی برقرار رہے۔
ادھر احمد احمدیان ایگزیکٹو ڈائریکٹرہولی سٹک ریزیلیئنس نے بتایا کہ ان کی تنظیم نے اسٹارلنک ڈیوائسز یورپی ممالک اور دیگر ممالک سے خریدیں اور پھر انہیں ایران کے نزدیک واقع ممالک کے ذریعے منتقل کیا گیا۔
احمدیان نے کہا کہ اگر یہ ظاہر ہوا کہ ڈیوائس کسی امریکی تنظیم سے بھیجی گئی ہے تو ممکن ہے کہ پابندیاں سخت کی جائیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کی تنظیم نے ایران میں افراد کو 200 تک اسٹارلنک اینٹینا فراہم کیے اور 5000 سے زائد اسٹارلنک ڈیوائسز فروخت میں آسانی پیدا کی، جس میں عام شہریوں کو چھپے ہوئے ریٹیلرز کے ذریعے جوڑا گیا۔
یہ طریقہ کار نہ صرف سرگرم کارکنان بلکہ صارفین کے لیے بھی نسبتاً کم خطرناک ہے۔ اسی لیے ہولی سٹک ریزیلیئنس اسمگلنگ نیٹ ورکس استعمال کرتی ہے اور دور سے حفاظتی ہدایات اور استعمال کے طریقے فراہم کرتی ہے۔
بھاری اخراجات
احمدیان نے بتایا کہ اسٹارلنک اینٹینا حاصل کرنے کے لیے ایرانیوں کو پہلے بلیک مارکیٹ میں تقریباً 800 سے 1000 ڈالر ادا کرنے پڑتے تھے، جو بہت سے لوگوں کے لیے مہنگا تھا، اس کے علاوہ استعمال کے اخراجات بھی شامل ہوتے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بہت سی ڈیوائسز ایران میں جنوبی سرحدوں اور آبی راستوں کے ذریعے داخل کی گئی تھیں۔ اس لیے جنگ کی وجہ سے ہرمز کی تنگی بند ہونا اسٹارلنک ڈیوائسز کی فراہمی کو متاثر کرتا ہے۔
اگرچہ ایران میں اسٹارلنک ڈیوائسز کی تعداد عوامی طور پر معلوم نہیں، احمدیان نے اندازہ لگایا کہ وہاں 50 ہزار سے زائد ڈیوائسز موجود ہیں۔
امیلیا جیمس کے مطابق ایران میں اسٹارلنک کے دس ہزاروں آلات موجود ہونے کا امکان ہے، جہاں آبادی تقریباً 92 ملین ہے۔
جیمس نے بتایا کہ انہوں نے سنا ہے کہ ایرانی حکام جنگ کے آغاز سے گھروں کی چھتوں اور بالکونیوں میں اینٹینا تلاش کر رہے ہیں۔اس ماہ کے آغاز میں ایرانی حکام نے ایک شخص کو گرفتار کیا، جسے اسٹارلنک انٹرنیٹ سروس فروخت کرنے والے نیٹ ورک کا سربراہ بتایا گیا۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ گزشتہ جنوری میں شروع ہونے والے احتجاجات کے بعد نئے صارفین کو اسٹارلنک سروس مفت فراہم کی گئی تھی، تاہم ڈیوائسز کی قیمت بہت بڑھ کر تقریباً 4000 ڈالر تک پہنچ گئی۔
احمدیان کے مطابق ایران میں 28 فروری سے شروع ہونے والی جنگ کے بعد جہاں ایران کا مقابلہ امریکہ اور اسرائیل سے ہے، حکام نے انٹرنیٹ نیٹ ورکس پر مکمل پابندی اور سنسرشپ عائد کر دی ہے۔