برطانوی حکومت سینکڑوں نوجوانوں پر سوشل میڈیا سائٹس کے استعمال پر پابندی لگانے کا ایک محدود تجربہ شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جس کا مقصد دماغی صحت اور رویے پر استعمال میں کمی کے اثرات کا جائزہ لینا ہے۔
300 نوجوانوں پر تجربہ
سائنس، جدت اور ٹیکنالوجی کی وزارت نے چھ ہفتوں کے آزمائشی پروگرام کا اعلان کیا ہے جس میں تقریباً 300 نوجوان شامل ہوں گے جن پر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے استعمال کے حوالے سے مختلف پابندیاں لاگو کی جائیں گی۔ یہ بات ’’ سی این بی سی‘‘ کی رپورٹ میں بتائی گئی ہے۔
ان اقدامات میں درج ذیل شامل ہیں:
· والدین کے کنٹرول کے ٹولز کے ذریعے بعض ایپس پر مکمل پابندی۔
· انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور سنیپ چیٹ جیسی ایپس کے لیے روزانہ ایک گھنٹہ استعمال کی حد مقرر کرنا۔
· رات 9 بجے سے صبح 7 بجے تک رات کی پابندی عائد کرنا۔
مکمل پابندی کا متبادل
یہ قدم برطانوی پارلیمنٹ کی جانب سے بچوں کی فلاح و بہبود اور سکولوں کے بل کے تحت 16 سال سے کم عمر افراد پر مکمل پابندی کو مسترد کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے جس نے حکومت کو سخت فیصلوں کے بجائے بتدریج حل آزمانے پر مجبور کیا۔
بڑھتا ہوا ریگولیٹری دباؤ
اسی وقت ’’ آف کام ‘‘ اور ’’ انفارمیشن کمیشنرز آفس ‘‘ جیسے ریگولیٹری اداروں نے ٹیکنالوجی کمپنیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عمر کی تصدیق کے عمل کو بہتر بنا کر اور اجنبیوں کو نابالغوں سے رابطے سے روک کر بچوں کے تحفظ کو مضبوط بنائیں۔
پابندیوں کا عالمی رجحان
برطانیہ کا یہ قدم عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے ارجحان سے الگ نہیں ہے ۔ آسٹریلیا 16 سال سے کم عمر افراد کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی لگا کر پہل کر چکا ہے۔ سپین نے بھی اسی طرح کی پابندیاں منظور کی ہیں اور فرانس 15 سال سے کم عمر افراد کے لیے پابندی پر غور کر رہا ہے۔
وسیع سائنسی مطالعہ
کیمبرج یونیورسٹی کی قیادت میں تقریباً 4 ہزار طلبہ کی شرکت کے ساتھ ایک وسیع سائنسی مطالعہ کیا جا رہا ہے تاکہ نیند، تناؤ، جسمانی ساخت کے تاثر اور ذہنی صحت پر سوشل میڈیا کے استعمال کو کم کرنے کے اثرات کی پیمائش کی جا سکے۔
قانونی پس منظر کا دباؤ
یہ تحرکات ٹیکنالوجی کمپنیوں کے خلاف بڑھتے ہوئے قانونی مقدمات کے تناظر میں سامنے آئی ہیں جہاں ’’ میٹا ‘‘ کو بچوں کے تحفظ میں غفلت کے الزامات کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ دیگر دعوے ان فیچرز کے ڈیزائن سے متعلق ہیں جو لت کا باعث بن سکتے ہیں۔
مبصرین کا خیال ہے کہ ان تجربات کے نتائج مستقبل میں مزید سخت قانون سازی کی راہ ہموار کر سکتے ہیں کیونکہ حکومتیں استعمال کی آزادی اور نوجوان نسل کو ڈیجیٹل دنیا کے خطرات سے بچانے کے درمیان توازن پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔