گزشتہ روز وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے زیر صدارت منعقدہ وزارتی اجلاس کے دوران امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے بیان پر ایرانی مجلس شوریٰ کے اسپیکر محمد باقر قاليباف کا تمسخرانہ رد عمل سامنے آیا ہے۔
قاليباف نے اپنے ایکس (ٹویٹر) اکاؤنٹ پر پیٹ ہیگستھ کی ایک وڈیو شیئر کی جس میں وہ کہہ رہے ہیں "کئی سالوں تک دنیا سے کہا گیا کہ ایرانی میزائلوں کی مار صرف دو کلومیٹر تک ہے... حیرت کی بات ہے کہ ایران نے ایک بار پھر جھوٹ بولا"۔ اس پر ایرانی عہدے دار نے سرخ قمیص پہنے ایک چھوٹے بچے کی مشہور "میم" شیئر کی جس میں وہ طنزیہ اور مذاق اڑانے والے انداز میں نظر آ رہا ہے، جو غالباً اس بات کی علامت ہے کہ ایران کے پاس ابھی مزید میزائل موجود ہیں۔
https://t.co/yCY9bejRr6 pic.twitter.com/2VXB6h2DWg
— محمدباقر قالیباف | MB Ghalibaf (@mb_ghalibaf) March 26, 2026
یہ واقعہ 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے بعد سے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری "اعصابی جنگ" کا حصہ ہے۔ یہ رد عمل ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کو معاہدے کے لیے 6 اپریل تک کی اضافی مہلت دی ہے، بصورت دیگر امریکی صدر نے "بہت برے نتائج" کی دھمکی دی گئی ہے۔
واضح رہے کہ محمد باقر قاليباف کا نام وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ اسرائیل کی تیار کردہ ان افراد کی فہرست میں شامل ہے جنہیں وہ ختم کرنا چاہتا ہے۔ تاہم ایک پاکستانی عہدے دار نے انکشاف کیا ہے کہ اسلام آباد نے، جو واشنگٹن اور تہران کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے، مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے ایرانی حکام کو نشانہ نہ بنانے کی درخواست کی ہے۔