امریکہ نے ایران کے ساتھ تنازع میں خودکار کشتیاں تعینات کر دیں : پینٹاگان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگان) نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ نے ایران کو نشانہ بنانے والے اپنے آپریشنز کے دوران گشت کے لیے خودکار ڈرون کشتیاں تعینات کر دی ہیں۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ واشنگٹن نے کسی جاری تنازع میں اس طرح کی کشتیوں کے استعمال کی تصدیق کی ہے۔

ان کشتیوں کی تعیناتی کا اعلان اس سے قبل نہیں کیا گیا تھا، جنہیں نگرانی یا خودکش حملوں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب تقریباً ایک ماہ امریکہ اور اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کے آغاز کے بعد اب تک، ایران نے خلیج میں تیل بردار جہازوں پر حملوں کے لیے کم از کم دو بار سمندری ڈرونز کا استعمال کیا ہے۔

پینٹاگان کے حکام نے انکشاف کیا ہے کہ محکمہ دفاع مشرق وسطیٰ میں مزید 10 ہزار تک زمینی فوج بھیجنے پر غور کر رہا ہے تاکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران میں مزید فوجی اختیارات دیے جا سکیں۔ وال اسٹریٹ جنرل اخبار کے مطابق، یہ اقدام فوجی حکمت عملی کو وسعت دینے کے لیے اٹھایا جا رہا ہے۔

جنگ کے خاتمے کے لیے ثالثوں کے ذریعے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مسلسل مشاورت کے دوران امریکی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ اگر مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہ ہوئی تو تہران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ویب سائٹ 'axios' کے مطابق اگر ایرانی جانب سے آبنائے ہرمز بدستور بند رہا تو فوجی آپریشنز مزید تیز کر دیے جائیں گے۔

ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ پینٹاگان کے اختیارات میں زمینی افواج کا استعمال اور ایرانی سرزمین پر بڑے پیمانے پر بم باری کی مہم کے علاوہ جزیرہ خارگ پر قبضہ یا اس کا محاصرہ بھی شامل ہو سکتا ہے۔ مزید برآں پینٹاگان ایران کو فیصلہ کن ضرب لگانے کے لیے فوجی آپشنز تیار کر رہا ہے۔

یہ صورت حال ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یہ جنگ اپنے دوسرے مہینے میں داخل ہونے کو ہے۔ ایک طرف اسرائیل اور ایران کے درمیان فضائی حملوں کا تبادلہ جاری ہے تو دوسری طرف ایرانی جانب سے خلیجی ممالک کی طرف میزائل اور ڈرونز سے حملیے کیے جا رہے ہیں، جن کے بارے میں تہران کا دعویٰ ہے کہ وہاں امریکی مفادات اور اڈوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ تہران نے آبنائے ہرمز کو بھی بدستور بند کر رکھا ہے، جو عالمی سطح پر ایک اہم بحری گزرگاہ ہے کیونکہ دنیا بھر کی گیس اور تیل کی ترسیل کا پانچواں حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں