ریاض کی سمت چھ ایرانی میزائل ۔۔ دو روک لیے گئے، چار خلیج عرب اور غیر آباد علاقوں میں گرے

قطر میں ہائی سکیورٹی الرٹ، بحرین نے حملوں کی تفصیلات پیش کر دیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

سعودی وزارت دفاع کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے انکشاف کیا ہے کہ سعودی دفاعی نظام نے ریاض کی جانب داغے گئے 6 بیلسٹک میزائلوں کا پتا چلایا، ان میں سے دو کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا جبکہ باقی چار خلیج عرب کے پانیوں اور غیر آباد علاقوں میں گرے۔ اس کے ساتھ ہی آج دوپہر 11 ڈرونز کو بھی تباہ کیا گیا، جن میں سے ایک کے ملبے کے ٹکڑے ایک فوجی مقام کے قریب گرے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران خلیجی دفاعی افواج ایرانی ڈرونز کو تباہ کرنے کی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

قطر، کویت اور بحرین

کویتی پورٹس اتھارٹی نے جمعہ کے روز بتایا کہ الشویخ بندرگاہ پر دشمن ڈرونز سے حملہ کیا گیا جس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

ابتدائی رپورٹوں کے مطابق صرف مالی نقصان ہوا ہے اور متعلقہ اداروں کے تعاون سے ہنگامی طریقہ کار فعال کر دیا گیا ہے۔

قطر میں وزارت داخلہ نے سکیورٹی خطرے کی سطح بلند ہونے کا اعلان کرتے ہوئے عوام کو گھروں اور محفوظ مقامات پر رہنے کی ہدایت کی ہے۔

بحرینی دفاعی فوج کی جنرل کمانڈ نے جنگ کے آغاز سے اب تک ہونے والے ایرانی حملوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ فضائی دفاعی نظام نے بحرین کو نشانہ بنانے والے 154 میزائل اور 350 ڈرونز تباہ کیے ہیں۔

اسی طرح متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے بتایا کہ گذشتہ چند گھنٹوں میں ایران سے آنے والے 15 بیلسٹک میزائلوں اور 11 ڈرونز کو ناکام بنایا گیا ہے۔ امارات پر اب تک مجموعی طور پر 372 بیلسٹک میزائل، 15 کروز میزائل اور 1826 ڈرونز سے حملے کیے جا چکے ہیں۔

سات دن کی مہلت

واضح رہے کہ 28 فروری سے شروع ہونے والے اس تنازع کے دوران ایران نے کئی خلیجی ممالک کے شہری ڈھانچے کو نشانہ بنایا ہے، حالانکہ اس کا دعویٰ ہے کہ وہ صرف امریکی مفادات اور اڈوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔

ایرانی صدر نے ان ممالک پر ہونے والے حملوں پر معذرت بھی کی تھی جس پر انہیں ایران کے اندر پاسدارانِ انقلاب اور سخت گیر رہنماؤں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

اس کے بعد انھوں نے دوبارہ اس عزم کا اظہار کیا کہ ان کا ملک امریکی اور اسرائیلی حملوں کا بھرپور جواب دے گا اور ہتھیار نہیں ڈالے گا۔ اب دنیا کی نظریں جنگ بندی کے لیے دی گئی 7 روزہ امریکی مہلت اور جاری مذاکرات پر لگی ہوئی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں