ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کے بارے میں پاکستانی وزیر خارجہ کی پوسٹ دوبارہ شیئر کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

اتوار کی صبح امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی ایک پوسٹ دوبارہ شیئر کی، جس میں انہوں نے ایران کی جانب سے بیس پاکستانی پرچم بردار جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دینے کا ذکر کیا تھا۔

پاکستانی وزیر خارجہ نے اپنی پوسٹ میں کہا:مجھے یہ خوشخبری شیئر کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ ایران کی حکومت نے مزید 20 پاکستانی پرچم بردار جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی ہے ، روزانہ دو جہاز اس راستے سے گزریں گے۔

یہ ایران کی جانب سے ایک مثبت اور قابلِ تحسین قدم ہے۔ یہ امن کی ایک امید افزا علامت ہے اور خطے میں استحکام لانے میں مدد دے گا۔



یہ مثبت اعلان امن کی جانب ایک بامعنی پیش رفت ہے اور اس سلسلے میں ہماری مشترکہ کوششوں کو تقویت دے گا۔

بات چیت، سفارت کاری اور اعتماد سازی کے اقدامات ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہیں۔

ادھر پاکستان آج اتوار سے دو روزہ چار ملکی اجلاس کی میزبانی کر رہا ہے، جس میں مشرق وسطیٰ کی جنگ کے حل کے لیے سفارتی کوششوں پر غور کیا جائے گا۔

پاکستان نے ہفتہ کے روز اعلان کیا تھا کہ سعودی عرب، ترکی اور مصر کے وزرائے خارجہ اسلام آباد آئیں گے تاکہ جنگ کے حل کے لیے مشاورت کی جا سکے۔

وزارت خارجہ پاکستان کے بیان کے مطابق چاروں ممالک کے وزرائے خارجہ 29 اور 30 مارچ کو اسلام آباد میں ملاقات کریں گے، جہاں مختلف امور خصوصاً خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں پر تفصیلی بات چیت ہوگی۔

وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ یہ اجلاس پہلے ترکی میں ہونا تھا، لیکن شیڈول کی پابندیوں کے باعث وفود کو اسلام آباد مدعو کیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جاری تنازعات کے حل کے لیے سنجیدگی سے کوشش کر رہا ہے اور اسے دوست ممالک کی مکمل حمایت حاصل ہے۔

ان کے مطابق ایران کے ساتھ بات چیت جاری ہے، تاہم مذاکرات کی حساسیت کے باعث حکام عوامی بیانات دینے سے گریز کر رہے ہیں۔

اسحاق ڈار نے یہ بھی بتایا کہ چاروں ممالک کے وزرائے خارجہ پیر کے روز وزیر اعظم شہباز شریف سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کریں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں