ایران کی علانیہ باتیں ہم سے کی گئی گفتگو کے برخلاف ہیں: امریکی وزیر خارجہ

ہم ایران کے ساتھ سفارت کاری کی ناکامی کے احتمال کے لیے بھی تیار ہیں: مارکو روبیو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ جو کچھ ایرانی علانیہ طور پر کہتے ہیں وہ ہماری گفتگو میں کہی گئی باتوں کی عکاسی نہیں کرتا۔ روبیو نے مزید کہا کہ فوجی آپریشن کے مقاصد میں ایرانی بحریہ اور اس کی دفاعی صنعتی بنیاد کو تباہ کرنا اور اس کے ساتھ میزائل لانچر بنانے کی اس کی صلاحیت کو کمزور کرنا شامل ہے۔ امریکی وزیرِ خارجہ نے بین الاقوامی پانیوں میں ایوی ایشن کی نقل و حرکت کو کنٹرول کرنے کے لیے آبنائے ہرمز میں ایک نظام قائم کرنے کی تہران کی دھمکیوں سے خبردار کیا اور اسے عالمی اثرات کا حامل قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ بحرانوں کو سفارتی راستے سے حل کرنے کو ترجیح دیتا ہے لیکن وہ ساتھ ہی ان کوششوں کی ناکامی کے احتمال کے لیے بھی تیار ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ 47 سال سے قائم ایرانی نظام میں ایسے فریق شامل ہیں جو ضروری طور پر سفارت کاری یا امن کے حامی شمار نہیں کیے جاتے۔

واضح رہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز کہا کہ امریکہ ایران میں اپنی فوجی کارروائیاں ختم کرنے کے لیے ایک نئی اور زیادہ معتدل حکومت کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات کر رہا ہے۔ ٹرمپ نے ’’ ٹروتھ سوشل ‘‘ پر ایک پوسٹ میں مزید کہا کہ بڑی پیش رفت ہوئی ہے، لیکن اگر کسی بھی وجہ سے جلد ہی معاہدہ طے نہ پایا، جس کا ہونا زیادہ قرینِ قیاس ہے اور اگر آبنائے ہرمز فوری طور پر نہ کھولی گئی تو ہم ایران میں اپنی موجودگی کا اختتام بجلی پیدا کرنے والے تمام سٹیشنوں، تیل کے کنوؤں، جزیرہ خرج اور شاید پانی صاف کرنے والے ان تمام پلانٹس کو دھماکے سے اڑا کر کریں گے۔ یہ وہ پلانٹس ہیں جنہیں ہم نے اب تک جان بوجھ کر ہاتھ نہیں لگایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہمارے ان فوجیوں اور دیگر لوگوں کا انتقام ہوگا جنہیں ایران نے سابقہ حکومت کے دور میں 47 سالہ دہشت گردی کے عہد کے دوران ذبح کیا اور قتل کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں