کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان اور افغانستان کے اورمچی میں مذاکرات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

چین میں پاکستان، افغانستان اور چین کے درمیان سہ فریقی مذاکرات کا پہلا دور مکمل ہو گیا، جس میں تینوں ملکوں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں اہم سیاسی و اقتصادی امور اور افغانستان کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

چین کے شہر اورمچی میں ہونے والے سہ فریقی مذاکرات میں پاکستان، افغانستان اور چین کے اعلیٰ حکام شریک ہوئے، جس میں پاکستان نے افغانستان میں کالعدم ٹی ٹی پی کی پناہ گاہیں ختم کرنے پر زور دیا۔ جب کہ پاکستانی وفد نے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کے لیے قابلِ تصدیق اور تحریری لائحہ عمل اختیار کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

پاکستانی وفد کی قیادت ایڈیشنل فارن سیکرٹری سید علی اسد گیلانی نے کی جب کہ افغان طالبان کے چھ رکنی وفد بھی شریک ہوئے۔ اس سے قبل چین کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان ڈاکٹر یو شیایانگ نے بیجنگ پہنچنے پر پاکستانی اور افغان وفود کا استقبال کیا۔

میڈیا ذرائع کے مطابق افغان طالبان وفد کی جانب سے باہمی مشاورت کے بعد مثبت جواب کے اشارے دیے گئے ہیں۔ تینوں ملکوں نے سہ فریقی اجلاس کا سلسلہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

یاد رہے کہ چین کی ثالثی میں یہ سہ فریقی اجلاس ایسے وقت میں ہوا جب خطے میں سکیورٹی صورت حال کشیدہ ہے اور پاک افغان تعلقات میں بھی تناؤ برقرار ہے۔

پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے گذشتہ دنوں اپنی ہفتہ وار بریفنگ کے دوران تصدیق کی کہ کچھ دوست ممالک کی جانب سے طالبان حکام سے رابطے کی درخواستوں کے باوجود، پاکستان افغانستان کے حوالے سے اپنی موجودہ پالیسی جاری رکھے گا۔

اطلاعات ہیں کہ دونوں ممالک کے وزارت خارجہ اور سکیورٹی اہلکار بات چیت میں شریک ہیں لیکن اس رابطے کو زیادہ میڈیا کوریج نہیں دی جائے گی جب تک کوئی بڑی پیش رفت نہ ہو۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں