سعودی ولی عہد اور وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان نے جدہ میں اٹلی کی وزیر اعظم جورجیا میلونی کے ساتھ ملاقات کی، جس میں علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
بات چیت میں خطے کی سکیورٹی اور استحکام کو فروغ دینے کے لیے کوششوں کی ہم آہنگی کے ساتھ ساتھ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے ... توانائی کی ترسیل پر پڑنے والے اثرات پر بھی گفتگو کی گئی۔
اطالوی وزیر اعظم کا سعودی عرب کا دورہ خلیجی ممالک کے دورے کا حصہ ہے جس میں متحدہ عرب امارات اور قطر بھی شامل ہیں۔ مملکت پہنچنے سے قبل ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک "ہمارے دوست ہیں اور ہمارے مفادات کے لیے تزویراتی اہمیت رکھتے ہیں، میرا یہ دورہ ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار ہے"۔
میلونی کا یہ بیان خلیج تعاون کونسل کے ممالک پر ایران کی جانب سے کیے جانے والے ان معاندانہ حملوں کے تناظر میں سامنے آیا ہے جن میں توانائی کی تنصیبات، انفراسٹرکچر اور مختلف مقامات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
رئيسة وزراء إيطاليا تصل إلى جدة للقاء ولي العهد السعودي
— العربية عاجل (@AlArabiya_Brk) April 3, 2026
قناة العربية pic.twitter.com/jOJoG7siNG
اسی ضمن میں خاتون وزیر اعظم نے انٹرویو میں اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ ان کا سعودی عرب اور خلیجی ممالک کا دورہ توانائی کی فراہمی سے متعلق ہے، کیونکہ اٹلی اپنی تیل کی ضروریات کا تقریباً 15 فی صد خلیجی ممالک سے درآمد کرتا ہے۔
میلونی نے گذشتہ ماہ کے آغاز میں اس بات کی تصدیق کی تھی کہ روم ایرانی فضائی حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے خلیجی ممالک کو فضائی دفاعی امداد بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
انہوں نے ایک ریڈیو اسٹیشن پر بات کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ، فرانس، جرمنی کی طرح اٹلی بھی خلیجی ممالک کو خاص طور پر دفاع اور بالخصوص فضائی دفاع کے شعبے میں امداد فراہم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔