مشرقی بیروت میں بم باری کی نئی تفصیلات... حزب اللہ کا ایک کمانڈر اپارٹمنٹ میں آتا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

بیروت کے مشرق میں واقع علاقے عین سعادة کی پہاڑیوں میں گذشتہ اتوار کی رات اسرائیلی بم باری کے نتیجے میں 4 شہری ہلاک ہو گئے، جس کے بعد علاقے میں سوگ کی فضا برقرار ہے اور اس واقعے کی نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔

ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ نشانہ بنائی گئی عمارت کے کسی بھی اپارٹمنٹ کا کوئی با ضابطہ کرایہ نامہ موجود نہیں تھا۔ پیر کے روز العربیہ کے ذرائع نے انکشاف کیا کہ یہ حملہ ایک اسرائیلی بحری جہاز سے کیا گیا تھا۔ اس کارروائی کا اصل ہدف حزب اللہ کا ایک کمانڈر تھا جس کا تعلق "آل ابراہیم" خاندان سے ہے اور مقامی رہائشیوں کے مطابق وہ اس عمارت کے ایک اپارٹمنٹ میں اکثر آتا جاتا تھا۔ یہ اپارٹمنٹ عمارت کے مالک کی ملکیت ہے، جو اتفاق سے اسی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں لیکن ان کا فرقہ مختلف ہے۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ "لبنانی فورسز" پارٹی کے مقامی عہدے بیار معوض نے پہلے ہی عمارت کے مالک کو خبردار کیا تھا کہ یہاں ایک مشکوک شخص کی آمد و رفت جاری ہے۔ ابھی تک اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی کہ مطلوبہ کمانڈر حملے میں مارا گیا یا کارروائی سے پہلے ہی فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ اسرائیلی حملے میں بیار اپنی اہلیہ سمیت ہلاک ہو گیا۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان اویخائی ادرعی نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی فورسز نے گذشتہ روز بیروت کے مشرقی علاقے میں ایک "دہشت گرد ہدف" کو نشانہ بنایا اور وہ شہریوں کے جانی نقصان کی رپورٹس کا جائزہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے حزب اللہ پر الزام لگایا کہ وہ شہری آبادیوں میں پناہ لے کر لوگوں کو "انسانی ڈھال" کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔

اس واقعے کے بعد متاثرہ علاقے کے مکینوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور بعض کا کہنا ہے کہ حزب اللہ نے ملک کو ایک ایسی جنگ میں جھونک دیا ہے جس سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔ مقامی لوگوں نے مطالبہ کیا ہے کہ کسی بھی بے گھر شخص کو اس وقت تک پناہ نہ دی جائے جب تک اس کی شناخت اور حزب اللہ سے لا تعلقی کی تصدیق نہ ہو جائے۔

گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران ایک موٹر سائیکل سوار کے حوالے سے کافی بحث و تکرار دیکھنے میں آئی جو سی سی ٹی وی فوٹیج میں دھماکے کے وقت وہاں سے فرار ہوتا دکھائی دیا۔ تاہم مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ محض ایک "ڈیلیوری بوائے" تھا۔

یاد رہے کہ 2 مارچ کو ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے قتل کے "انتقام" میں اسرائیل پر راکٹ داغ کر حزب اللہ کی جانب سے لبنان کو اس علاقائی تنازع میں گھسیٹے جانے کے بعد سے لبنان کے مختلف حلقوں میں تنظیم کے خلاف ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ خصوصاً ان علاقوں میں جنہیں پہلے محفوظ تصور کیا جاتا تھا۔ ادھر اسرائیل نے بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے ضاحیہ، دارالحکومت کے دیگر حصوں، وادی بقاع اور جنوبی لبنان پر شدید حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اسرائیلی افواج جنوبی سرحدی علاقوں میں داخل ہو چکی ہیں اور اسرائیل کا ارادہ ہے کہ دریائے لیطانی تک تقریباً 30 کلومیٹر کے فاصلے پر ایک بفر زون قائم کیا جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں