امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز ایران کے ساتھ دو ہفتوں کی جنگ بندی کے معاہدے کو امریکہ کی "مکمل اور جامع فتح" قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کامیابی میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ انہوں نے اے ایف پی کو دیے گئے انٹرویو میں واضح کیا کہ ایرانی یورینیم کے مسئلے سے اب بھرپور طریقے سے نمٹا جائے گا اور اسی یقین دہانی پر انہوں نے اس سمجھوتے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ صدر ٹرمپ کا ماننا ہے کہ چین نے ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، اور وہ خود بھی مئی میں چینی صدر شی جین پنگ سے ملاقات کے لیے بیجنگ کا دورہ کرنے والے ہیں۔
دمار هائل في تل السبع جنوب إسرائيل بعد سقوط شظايا صاروخ إيراني على منزل
— العربية (@AlArabiya) April 8, 2026
العربية pic.twitter.com/aOvcMS5jBe
دوسری جانب اسرائیل نے ایران پر حملے معطل کرنے کے امریکی فیصلے کی حمایت تو کی ہے لیکن وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے واضح کیا ہے کہ یہ جنگ بندی لبنان پر لاگو نہیں ہو گی۔
ترمب لـ أ ف ب: سيتم التعامل مع مسألة اليورانيوم الإيراني على أكمل وجه
— العربية (@AlArabiya) April 8, 2026
قناة العربية pic.twitter.com/vwXP58YwWu
اسرائیل نے یہ شرط بھی عائد کی ہے کہ ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز کھولے اور خطے میں تمام جارحانہ کارروائیاں بند کر دے۔ اس اعلان کے فوراً بعد عراق کی مسلح تنظیموں نے بھی خطے میں اپنی کارروائیاں دو ہفتوں کے لیے روکنے کا اعلان کر دیا ہے۔
اس سفارتی پیش رفت کے نتیجے میں عالمی منڈیوں میں مثبت لہر دوڑ گئی ہے، جہاں امریکی اسٹاک مارکیٹ کے سودوں میں اضافہ اور خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے کمی دیکھی گئی ہے۔ یاد رہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی معیشت کو شدید خطرات لاحق ہو گئے تھے۔ اس امن معاہدے سے قبل آخری لمحات تک امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے اہم انفراسٹرکچر بشمول پلوں، ہوائی اڈوں اور جزیرہ خارگ پر واقع تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا، تاہم اب صدر ٹرمپ کے اس اچانک فیصلے سے صورت حال یکسر تبدیل ہو گئی ہے۔