ایران کے ساتھ معاہدہ "مکمل فتح" ہے : ٹرمپ ... جنگ بندی لبنان پر لاگو نہیں ہو گی :نیتن یاہو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز ایران کے ساتھ دو ہفتوں کی جنگ بندی کے معاہدے کو امریکہ کی "مکمل اور جامع فتح" قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کامیابی میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ انہوں نے اے ایف پی کو دیے گئے انٹرویو میں واضح کیا کہ ایرانی یورینیم کے مسئلے سے اب بھرپور طریقے سے نمٹا جائے گا اور اسی یقین دہانی پر انہوں نے اس سمجھوتے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ صدر ٹرمپ کا ماننا ہے کہ چین نے ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، اور وہ خود بھی مئی میں چینی صدر شی جین پنگ سے ملاقات کے لیے بیجنگ کا دورہ کرنے والے ہیں۔

دوسری جانب اسرائیل نے ایران پر حملے معطل کرنے کے امریکی فیصلے کی حمایت تو کی ہے لیکن وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے واضح کیا ہے کہ یہ جنگ بندی لبنان پر لاگو نہیں ہو گی۔

اسرائیل نے یہ شرط بھی عائد کی ہے کہ ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز کھولے اور خطے میں تمام جارحانہ کارروائیاں بند کر دے۔ اس اعلان کے فوراً بعد عراق کی مسلح تنظیموں نے بھی خطے میں اپنی کارروائیاں دو ہفتوں کے لیے روکنے کا اعلان کر دیا ہے۔

اس سفارتی پیش رفت کے نتیجے میں عالمی منڈیوں میں مثبت لہر دوڑ گئی ہے، جہاں امریکی اسٹاک مارکیٹ کے سودوں میں اضافہ اور خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے کمی دیکھی گئی ہے۔ یاد رہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی معیشت کو شدید خطرات لاحق ہو گئے تھے۔ اس امن معاہدے سے قبل آخری لمحات تک امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے اہم انفراسٹرکچر بشمول پلوں، ہوائی اڈوں اور جزیرہ خارگ پر واقع تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا، تاہم اب صدر ٹرمپ کے اس اچانک فیصلے سے صورت حال یکسر تبدیل ہو گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں