ترکیا میں لرزہ خیز واقعہ: بیوی نے شوہر کو قتل کر کے لاش کے ٹکڑے کر دیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ترکیا کی پولیس نے منگل کے روز اعلان کیا کہ اس نے شہر بورصہ میں پیش آنے والے ایک چونکا دینے والے قتل کے معمہ کو کئی ہفتوں بعد حل کر لیا ہے۔

تحقیقات کے دوران 75 سالہ ریٹائرڈ پولیس اہلکار علی فؤاد اوزون اوغلو کے قتل کی تفصیلات سامنے آئیں اور شواہد نے ان کی بیوی پر شبہ ظاہر کیا۔

یہ واقعہ 28 جنوری کو پیش آیا جب اوزون اوغلو عثمان غازی کے علاقے میں واقع اپنے گھر سے لاپتہ ہو گئے۔

دو دن بعد ان کی بیوی عدالتہ اوزون اوغلو نے پولیس اسٹیشن جا کر رپورٹ درج کرائی کہ ان کے شوہر دروازہ کھولنے باہر گئے تھے اور واپس نہیں آئے، جس پر پولیس نے وسیع پیمانے پر تلاش اور تحقیقات شروع کیں۔

ترکیا میڈیا کے مطابق ابتدائی تفتیش کے دوران پولیس کو گھر کے اندر مقتول کی ذاتی اشیاء جیسے موبائل فون، بٹوہ اور سرکاری کاغذات ملے۔

اس کے علاوہ گھر کے مختلف حصوں، بشمول کچن، باتھ روم اور داخلی دروازے پر خون کے نشانات بھی پائے گئے، جبکہ کچھ تیز دھار اوزار بھی ملے جنہیں واردات میں استعمال ہونے کا شبہ ہے۔ گھر کی حالت خراب ہونے کی وجہ سے ابتدائی شواہد جمع کرنے میں کچھ مشکلات بھی پیش آئیں۔

مزید تحقیقات میں فرانزک رپورٹ سے تصدیق ہوئی کہ خون مقتول کا ہی تھا، جبکہ چھری اور ساطور پر موجود فنگر پرنٹس بیوی سے مطابقت رکھتے تھے۔ پولیس نے بیوی کی نقل و حرکت کا بھی جائزہ لیا، جس میں وہ لاپتہ ہونے کے بعد کئی دنوں تک گھر کے اردگرد گھومتی نظر آئی، جس سے اس پر شبہ مزید مضبوط ہوا۔

بعد ازاں اپریل کے آغاز میں اسے حراست میں لے لیا گیا۔ابتدائی پوچھ گچھ میں بیوی نے قتل سے انکار کیا، لیکن بعد میں اس نے اعتراف کیا کہ اس نے لاش کے 15 ٹکڑے کیے اور انہیں پلاسٹک بیگز میں ڈال کر مختلف اوقات میں قریبی کچرے کے ڈبوں میں پھینک دیا۔

اس کا کہنا تھا کہ موت سیڑھیوں سے گرنے کے باعث ہوئی اور اس نے خوف کے باعث ایسا قدم اٹھایا تاکہ اس پر قتل کا الزام نہ آئے۔

معلومات کے مطابق مقتول کئی سال قبل پولیس سے ریٹائر ہو چکے تھے اور ایک منظم اور پرسکون شخصیت کے طور پر جانے جاتے تھے۔

میاں بیوی اکیلے ہی اس گھر میں رہتے تھے۔پولیس کی جانب سے علاقے میں وسیع تلاش کے باوجود تاحال لاش کے ٹکڑے برآمد نہیں ہو سکے۔

عدالت نے ملزمہ کو ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے، جبکہ اس کے دونوں بیٹوں کو کچھ شرائط کے ساتھ رہا کر دیا گیا ہے۔ کیس کی مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ تمام حقائق سامنے لائے جا سکیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں