ایرانی وزارت دفاع نے ایرانی بندرگاہوں پر امریکی محاصرے کے خطرات سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے بحران میں شدت آئے گی۔ ایرانی وزارت دفاع کے ترجمان نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں غیر ملکی قوتوں کی جانب سے کوئی بھی فوجی مداخلت بحران میں اضافے اور عالمی توانائی کی حفاظت میں عدم استحکام کا باعث بنے گی۔ ترجمان نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آبنائے ہرمز اور بحیرہ عمان میں فوجی مداخلت کی کسی بھی کوشش میں ناکام رہیں گے۔
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ معیشت کو نشانہ بنا کر کوئی بھی غیر قانونی جنگ نہیں جیتی جا سکتی۔ سرکاری میڈیا نے پیر کے روز ایک ایرانی فوجی ترجمان کے حوالے سے بتایا تھا کہ بین الاقوامی پانیوں میں بحری جہازوں پر کوئی بھی امریکی پابندی غیر قانونی اور قزاقی کے مترادف ہے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ اگر ایرانی بندرگاہوں کو خطرہ لاحق ہوا تو خلیج عرب اور خلیج عمان کی تمام بندرگاہیں خطرے میں ہوں گی۔
اسی تناظر میں ایرانی سپاہ پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے قریب آنے والے کسی بھی فوجی بحری جہاز کے ساتھ وہی سلوک کیا جائے گا جیسے وہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کر رہا ہو۔ ایرانی بندرگاہوں سے نکلنے اور داخل ہونے والے بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر کنٹرول حاصل کرنے کی امریکی فوجی دھمکی پیر کے روز نافذ العمل ہوگئی ہے۔ تہران نے پڑوسی خلیجی ملکوں کی بندرگاہوں کو دھمکی دی ہے۔ یہ سب ہفتے کے اختتامِ پر ہونے والے مذاکرات میں جنگ ختم کرنے کے کسی معاہدے تک پہنچنے میں ناکامی کے بعد ہوا ہے۔
28 فروری کو جنگ شروع ہونے کے بعد سے ایران نے عملی طور پر اپنے بحری جہازوں کے علاوہ تمام جہازوں کے لیے آبنائے ہرمز کو بند کر رکھا اور کہا ہے کہ بحری جہازوں کو صرف اس کے کنٹرول میں اور فیس ادا کرنے کے بدلے گزرنے کی اجازت دی جائے گی۔ دوسری طرف ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ اب ایرانی بحری جہازوں اور ان تمام جہازوں پر پابندی لگا دیں گے جنہوں نے تہران کو فیس ادا کی ہے۔ انہوں نے کسی بھی ایرانی تیز رفتار جارحانہ جہازوں کو تباہ کرنے کی دھمکی بھی دی جو اس پابندی کو توڑنے کی کوشش کریں گے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا ہے کہ محاصرہ پیر کے روز مشرقی امریکی وقت کے مطابق صبح 10 بجے (14:00 جی ایم ٹی) سے شروع ہو گیا ہے۔ چھ ہفتوں کی فضائی بمباری کو ختم کرنے والی جنگ بندی کو اب خطرہ لاحق ہے ۔ اس کے ختم ہونے میں صرف ایک ہفتہ باقی ہے۔ یہ صورتحال واشنگٹن کی جانب سے اس بیان کے بعد پیدا ہوئی کہ تہران نے اسلام آباد مذاکرات میں اس کے مطالبات ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ یہ 1979 کے انقلاب کے بعد سے دونوں فریقوں کے درمیان اعلیٰ ترین سطح کے مذاکرات تھے۔