اسرائیل اور لبنان کے درمیان مذاکرات کھلے اور براہِ راست ہوں گے:امریکی محکمہ خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیل اور لبنان کی حکومتیں آج منگل کے روز اعلیٰ سطح کے سفارتی مذاکرات کریں گی، جو کھلے اور براہِ راست ہوں گے۔

یہ 1993 کے بعد اپنی نوعیت کے پہلے مذاکرات ہیں اور امریکہ کی سرپرستی میں منعقد ہو رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ان مذاکرات میں اسرائیل کی شمالی سرحد کی طویل مدتی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے طریقوں اور لبنانی حکومت کے اپنی مکمل خودمختاری بحال کرنے کے عزم پر بات چیت کی جائے گی۔

عہدیدار نے واضح کیا کہ اسرائیل کی جنگ حزب اللہ کے ساتھ ہے، لبنان کے ساتھ نہیں، لہٰذا دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان بات چیت میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے۔

آج کے اجلاس میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، لبنان میں امریکی سفیر مشیل عیسیٰ امریکی مشیر مائیکل نیڈہام، امریکہ میں اسرائیل کے سفیر یحیئل لیتر اور امریکہ میں لبنان کی سفیر ندیٰ حمادہ شرکت کریں گے۔

لبنان اور اسرائیل واشنگٹن میں ایک اہم اجلاس کی تیاری کر رہے ہیں، جس میں جنگ بندی پر بات ہوگی اور یہ نئی سفارتی کوششوں کا حصہ ہے، جس کا مقصد کشیدگی کم کرنا ہے۔

اسرائیلی چینل 14 کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات منگل کو گرینچ وقت کے مطابق دوپہر 2 بجے واشنگٹن میں شروع ہوں گے۔

یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں ،جب لبنان-اسرائیل سرحد پر حزب اللہ اور اسرائیلی فوج کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔

لبنانی ذرائع کے مطابق بیروت اس بات پر زور دے گا کہ اسرائیل جنگ بندی کی مکمل پابندی کرے، جبکہ اسرائیل حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے اور سرحد پر سیکیورٹی انتظامات نافذ کرنے پر اصرار کر رہا ہے۔

لبنان اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ضمانتیں بھی چاہتا ہے تاکہ مستقبل میں کسی اسرائیلی دراندازی یا خلاف ورزی سے بچا جا سکے، جبکہ وہ موجودہ کشیدگی سے پیدا ہونے والے معاشی و سیاسی بحران کو کم کرنا اور جنوبی علاقوں میں امن بحال کرنا چاہتا ہے۔

دوسری جانب اسرائیل کا مقصد سرحد کے قریب حزب اللہ کی موجودگی ختم کرنا، اسے غیر مسلح کرنا، ایرانی اثر و رسوخ کم کرنا اور ضرورت پڑنے پر فوجی کارروائی کی آزادی برقرار رکھنا ہے۔

مذاکرات سے قبل حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے پیر کی شام ایک خطاب میں لبنانی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیلی جارحیت کا مقابلہ کرے، اسرائیل سے مذاکرات ختم کرے اور مزاحمت سے دستبردار نہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ خودمختاری کے حصول کا راستہ نومبر 2024 کے معاہدے پر عمل درآمد میں ہے۔حزب اللہ کے ایک سینئر رہنما نے بھی واضح کیا کہ تنظیم امریکہ کی سرپرستی میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے کسی بھی براہِ راست معاہدے کو تسلیم نہیں کرے گی اور اس مذاکراتی عمل کو مسترد کرتی ہے۔یاد رہے کہ 2022 میں امریکہ کی ثالثی میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان سمندری حدود کے تعین کا معاہدہ طے پایا تھا، جبکہ دسمبر 2025 میں دونوں ممالک نے امریکہ کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات بھی کیے تھے تاکہ 2024 میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے خاتمے کے معاہدے کو مضبوط بنایا جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں