افریقی مہاجر خواتین سے متعلق رکنِ پارلیمنٹ کے بیان پر تیونس میں شدید ردعمل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

تیونس کی پارلیمنٹ کے ایک رکن کے بیان نے شدید غم و غصے کو جنم دیا ہے، جب انہوں نے افریقی ممالک (صحرائے اعظم کے جنوب) سے آنے والی مہاجر خواتین کے ساتھ زیادتی کے معاملے پر ایسی گفتگو کی جسے صدمہ خیزاور زیادتی اور نسلی امتیاز کی حوصلہ افزائی قرار دیا جا رہا ہے۔

پیر کے روز پارلیمنٹ میں وزیر داخلہ خالد النوری سے افریقی مہاجرین کے مسئلے پر ہونے والی بازپرس کے دوران رکنِ پارلیمنٹ طارق المہدی نے اس خبر پر حیرت کا اظہار کیا کہ ایک افریقی مہاجر خاتون کے ساتھ زیادتی ہوئی، جبکہ وہاں خوبصورت تیونسی خواتین موجود تھیں۔

غصے اور مذمت کی لہر

اس بیان کے بعد شدید ردِعمل سامنے آیا اور مذمت کی ایک بڑی لہر اٹھ کھڑی ہوئی، جبکہ اس رکنِ پارلیمنٹ کی پارلیمانی استثنیٰ ختم کرنے کے مطالبات بھی کیے جا رہے ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس مؤقف کو عوامی گفتگو میں ایک خطرناک انحراف قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں جنسی تشدد کا بالواسطہ جواز پیش کیا گیا ہے اور اس کی سنگینی کو کم کرکے دکھایا گیا ہے۔

ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ اس طرح کے بیانات خواتین کے خلاف خصوصاً صحرائے اعظم کے جنوب سے آنے والی مہاجر خواتین کے بارے میں امتیازی اور منفی تصورات کو فروغ دیتے ہیں۔

نسل پرستانہ اور توہین آمیز

''اصوات نساء ''نامی تنظیم نے رکنِ پارلیمنٹ کے بیان کو نسل پرستانہ اور توہین آمیزقرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں زیادتی جیسے جرم کا جواز پیش کیا گیا ہے اور ادارہ جاتی سطح پر نفرت انگیز گفتگو کو ایک خطرناک حد تک معمول بنایا جا رہا ہے۔

اسی طرح ''تقاطع برائے حقوق و آزادی'' نامی تنظیم نے کہا کہ رکن کے بیانات ایک نسل پرستانہ اور مردانہ بالادستی پر مبنی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں، جو ایک سنگین جرم کو محض ظاہری شکل و صورت سے جوڑ کر اس کی اہمیت کو کم کرتی ہے، یوں امتیاز اور تشدد کی ثقافت کو مزید گہرا کرتی ہے۔

دوسری جانب تیونس کی انسانی حقوق کی تنظیم نے بھی ان بیانات کی مذمت کرتے ہوئے انہیں مایوس کن امتیازی گفتگوقرار دیا اور کہا کہ ان میں ایسے اشارے موجود ہیں، جو خواتین کی عزت و وقار کو ٹھیس پہنچاتے ہیں اور حسن یا شناخت کی بنیاد پر تشدد کو جواز فراہم کرتے ہیں۔

استثنیٰ ختم کرنے کے مطالبات

سوشل میڈیا پر بھی متعدد تیونسی شہریوں نے پارلیمنٹ میں وزیر داخلہ کے سامنے دیے گئے اس بیان پر شدید حیرت اور صدمے کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا کہ رکنِ پارلیمنٹ کی استثنیٰ ختم کرکے ان کے خلاف عدالتی تحقیقات شروع کی جائیں۔

اس تناظر میں سماجی کارکن اسامہ فرحات نے لکھا: اس رکن کے منطق کے مطابق زیادتی صرف اسی وقت عجیب لگتی ہے جب متاثرہ خاتون اس کے معیار کے مطابق خوبصورت نہ ہو۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ رکن کی استثنیٰ ختم کی جائے اور پراسیکیوشن ان کے خلاف تشدد پر اکسانے اور نسلی امتیاز کے الزامات میں کارروائی کرے۔

اسی طرح سماجی کارکن خولہ السلیتی نے بھی اس مطالبے کی حمایت کی اور کہا کہ یہ بیانات مہاجر خواتین کا مذاق اڑاتے ہیں اور تیونسی خواتین کے خلاف زیادتی کو گویا جائز ٹھہراتے ہیں۔

یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تیونس میں ہجرت، انسانی حقوق اور نسل پرستی و نفرت انگیز بیانیے پر بحث میں شدت آ رہی ہے، خصوصاً حالیہ برسوں میں صحرائے اعظم کے جنوب سے آنے والے مہاجرین کی تعداد میں اضافے کے باعث۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں