تین سال تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد یورپ کو تباہ کرنے والی جنگ کا خاتمہ ہو گیا
نايميخن(Nijmegen) معاہدوں نے یورپ میں ایک نیا سیاسی منظرنامہ تشکیل دیا اور لوئس چہاردہم کو براعظم کے سب سے طاقتور شخص کی حیثیت عطا کی
سترہویں صدی کے دوسرے نصف حصے میں فرانس یورپ کی سب سے بڑی فوجی طاقت بن چکا تھا، جس کی مضبوط فوج اس کے ہمسایہ ممالک کے لیے باعثِ تشویش تھی۔
دوسری جانب ہالینڈ کی جمہوریہ نے اپنی سمندری تجارت اور یورپی منڈیوں پر بڑی حد تک کنٹرول کی بدولت نمایاں مقام حاصل کر لیا تھا۔
اسی دوران ہالینڈ کی بڑھتی ہوئی تجارتی طاقت نے فرانسیسی بادشاہ لوئس چہاردہم کو پریشان کر دیا، جو اس عرصے میں یورپ میں فرانسیسی سلطنت کی توسیع اور نئے علاقوں کے حصول کا منصوبہ بنا رہا تھا۔ اپنے تجارتی حریف کو ختم کرنے کے لیے فرانس نے ہالینڈ پر حملہ کر کے اسے زیرِ قبضہ کرنے کا منصوبہ تیار کیا۔
1672 میں ہالینڈ کی جنگ کا آغاز
مئی 1672 میں فرانس نے انگلینڈ اور کولون (Cologne) کی مدد سے ہالینڈ کے خلاف فوجی کارروائی شروع کی۔
اس دور میں ڈچوں نے اس سال کو ''تباہی کا سال'' قرار دیا کیونکہ وہ ہر طرف سے حملے کی زد میں آ گئے تھے اور ان کی تجارت اچانک شدید طور پر متاثر ہوئی۔
ابتدا میں ہالینڈ کا دفاعی نظام تیزی سے ٹوٹ گیا اور کئی علاقے فرانسیسی افواج کے قبضے میں چلے گئے۔لیکن جولائی 1672 تک صورتحال میں تبدیلی آنا شروع ہو گئی، جب ہالینڈ کے اتحادیوں نے مداخلت کی۔
فرانس کے حملے کے آغاز کے ساتھ ہی اس کے ہمسایہ ممالک کو اس کی بڑھتی ہوئی طاقت اور فوجی اثر و رسوخ پر تشویش ہونے لگی۔ طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے اسپین، مقدس رومی سلطنت، ڈنمارک، برانڈنبرگ-پروشیا اور ہالینڈ نے مل کر فرانس کے خلاف ایک فوجی اتحاد تشکیل دیا۔
اس دوران سویڈن نے ابتدا میں غیر جانبداری اختیار کی، لیکن 1675 میں اس نے فرانس کا ساتھ دینا شروع کر دیا۔یہ جنگ جو "ہالینڈ کی جنگ" کے نام سے جانی جاتی ہے اور 1679 تک جاری رہی، اس میں ابتدا میں انگلینڈ نے بھی فرانس کی حمایت کی، لیکن 1674 میں ہالینڈ کے ساتھ معاہدہ کرنے کے بعد وہ جنگ سے نکل گیا اور غیر جانبدار ہو گیا۔
جنگ کی لاگت اور مختلف نقطۂ نظر
1676 اور 1677 کے درمیان اس جنگ میں شامل ممالک کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس دوران دونوں فریقوں کے درمیان مجموعی طور پر 120 ہزار سے زائد افراد ہلاک یا زخمی ہوئے۔
اس کے علاوہ جنگ مختلف محاذوں پر لڑی جا رہی تھی، جس کے باعث تمام فریقوں نے اپنے عوام پر بھاری ٹیکس عائد کیے، زرعی پیداوار ضبط کی اور فوجی اخراجات و اسلحہ پر خطیر رقم خرچ کی۔
بڑھتے ہوئے بوجھ اور جنگ جاری رکھنے کی ناکامی کے باعث تمام فریقین امن اور جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدے کی طرف مائل ہوئے۔
1676 میں ہالینڈ کے شہر نايميخن (Nijmegen) میں فرانس، اسپین، ہالینڈ کی جمہوریہ، مقدس رومی سلطنت، برانڈنبرگ-پروشیا اور ڈنمارک کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات شروع ہوئے۔
تاہم یہ مذاکرات نہایت مشکل تھے کیونکہ ہر فریق کے مفادات مختلف تھے۔ فرانس اپنی جنگی کامیابیوں کو برقرار رکھنا چاہتا تھا، ہالینڈ اپنی آزادی اور سلامتی کی ضمانت کا مطالبہ کر رہا تھا، اسپین جنگ میں کھوئے گئے علاقوں کی واپسی چاہتا تھا، جبکہ مقدس رومی سلطنت فرانس کی بڑھتی ہوئی فوجی طاقت کو محدود کرنے پر زور دے رہی تھی تاکہ خطے میں اس کا اثر و رسوخ کم ہو سکے۔
نايميخن معاہدات
مشکل اور طویل مذاکرات کے بعد کئی امن معاہدے طے پائے۔ 1678 میں فرانس نے ہالینڈ کی جمہوریہ کے ساتھ امن معاہدہ کیا، جس کے تحت اس نے ہالینڈ کی آزادی کو تسلیم کیا اور بعض علاقوں کی واپسی پر بھی رضامندی ظاہر کی۔ اسی سال فرانس نے اسپین کے ساتھ بھی ایک معاہدہ کیا، جس کے نتیجے میں اسے اسپین کے کچھ علاقے، خصوصاً اسپینش نیدرلینڈز کے کچھ حصے حاصل ہوئے۔
1679 تک فرانس نے مقدس رومی سلطنت اور برانڈنبرگ-پروشیا کے ساتھ بھی معاہدے کر لیے، جن کے تحت اس نے جنگ کے دوران قبضے میں لیے گئے کچھ علاقے ان ریاستوں کو واپس کر دیے۔
تقریباً تین سال کی طویل مذاکراتی عمل کے بعد ہالینڈ کی جنگ اپنے اختتام کو پہنچی اور یورپ میں ایک نیا سیاسی توازن قائم ہوا۔
اس کے نتیجے میں فرانسیسی بادشاہ لوئس چہاردہم کو یورپ کا سب سے طاقتور حکمران سمجھا جانے لگا، جبکہ اسپین اپنی کمزوری اور زوال کی طرف بڑھنے لگا۔
دوسری جانب ہالینڈ کی جمہوریہ نے اپنی آزادی اور استحکام کو برقرار رکھتے ہوئے ایک مضبوط تجارتی ریاست کے طور پر اپنی حیثیت قائم رکھی۔