سعودی جنرل اتھارٹی فار روڈز نے وضاحت کی ہے کہ مکہ مکرمہ کی طرف جانے والے سڑکوں کے نیٹ ورک میں متعدد ایسے اہم راستے شامل ہیں جو مملکت کے مختلف علاقوں کو مقدس دارالحکومتِ مکہ مکرمہ سے جوڑتے ہیں۔ اس نیٹ ورک کا مقصد حجاج کرام اور معتمرین کی آمد و رفت کو آسان بنانا اور حج سیزن کے دوران رسائی کو بہتر بنانا ہے۔
اسی تناظر میں ’’ روڈ اتھارٹی ‘‘ نے بتایا کہ ان راستوں میں ’’ طریق الہجرہ ‘‘ یعنی ہجرت روڈ بھی شامل ہے جو مدینہ منورہ کو مکہ مکرمہ سے ملاتا ہے اور اس کی لمبائی 420 کلومیٹر ہے۔ اس روڈ کو اہم ترین سڑکوں میں شمار کیا جاتا ہے کیونکہ یہ مسجدِ حرام کو مسجدِ نبوی سے جوڑتی ہے۔ اس کی وجہ سے سیزن کے دوران یہاں ٹریفک کا شدید دباؤ رہتا ہے۔
أوردة مكة…
— الهيئة العامة للطرق (@RGAsaudi) April 16, 2026
طرق تمتد من المدينة المنورة وجدة والطائف وجنوب المملكة، لخدمة ضيوف الرحمن وتيسير رحلتهم إلى مكة المكرمة. pic.twitter.com/v4oEnhDIuv
اتھارٹی نے کہا کہ ’’ طریق اللیث ‘‘ 90 کلومیٹر کی لمبائی کے ساتھ مملکت کے جنوبی علاقوں کو مکہ مکرمہ سے ملاتا ہے۔
اسی رطح ’’ طریق السیل الکبیر ‘‘ (السیل الکبیر روڈ) 80 کلومیٹر کی لمبائی کے ساتھ طائف کے ضلع کو مکہ مکرمہ سے جوڑنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ اس روڈ سے ٹریفک کی روانی میں بہتری آتی ہے۔
مزید بتایا گیا کہ ’’ طریق الامیر محمد بن سلمان ‘‘ جدہ شہر کو مکہ مکرمہ سے جوڑتا ہے جس کی لمبائی 70 کلومیٹر ہے۔
یہ ان جدید ترین شاہراہوں میں سے ہے جو دونوں شہروں کے درمیان رابطے کو مضبوط بناتی ہیں۔ دوسری طرف ’’ طریق عقبہ الہدا ‘‘ طائف کو مکہ مکرمہ سے ملاتا ہے جس کی لمبائی 23 کلومیٹر ہے اور یہ اپنے پہاڑی راستوں کی وجہ سے منفرد پہچان رکھتا ہے۔
اتھارٹی نے زور دیا کہ یہ شاہراہیں ایک باہم مربوط نیٹ ورک کا حصہ ہیں تاکہ مختلف علاقوں کے درمیان حاجیوں اور معتمرین کی نقل و حرکت کو آسان بنا کر ان کی خدمت کی جا سکے۔ اسی طرح مکہ مکرمہ جانے والے راستوں پر حفاظت کے معیار اور آپریشنل کارکردگی کو بلند کیا جا سکے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ اتھارٹی اعلیٰ ترین عالمی معیار کے مطابق سڑکوں کے نیٹ ورک کی ترقی اور بہتری کا کام جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ سڑکوں کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کیا جا سکے۔ یہ کوششیں روڈ سیکٹر پروگرام کے اہداف کے حصول میں بھی معاون ہیں جس کا مقصد معیارِ زندگی کو بہتر بنانا اور معتمرین کے سفر کو سہل بنانا ہے۔