برطانوی پولیس نے جمعرات کے روز کہا ہے کہ اس نے تین ایسے افراد کو گرفتار کیا ہے جن کے بارے میں شبہ ہے کہ انہوں نے فارسی میڈیا گروپ کے دفتر میں آگ لگانے کی کوشش کی تھی۔
میڈیا گروپ کے دفتر کو آگے لگانے کی کوشش جنوب مغربی لندن کے علاقے میں کی گئی۔ جہاں دفتر کی کار پارکنگ میں ایک ایسا کینٹینر پھینکا گیا جو آگ بھڑکانے کا کام کر سکتا تھا۔ یہ واقعہ بدھ کی رات کو پیش آیا۔ تاہم آگ بڑھکنے سے پہلے ہی بجھ گئی اور کوئی نقصان نہیں ہوا۔
واقعے کے بعد پولیس حکام نے اس علاقے میں ایک سیاہ رنگ کی کار کا تعاقب کیا اور اس میں موجود تین افراد کو حراست میں لیا۔ جن میں ایک 19 سالہ، ایک 21 سالہ اور ایک 16 سال کا نوعمر بچہ تھا۔ ان بڑے دونوں پر یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے ایک نو عمر بچے کی زندگی کو خطرے میں ڈالا۔ تاہم پولیس حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس واقعے کو دہشت گردی کا واقعہ نہیں سمجھتے۔ اگرچہ دہشت گردی سے متعلق پولیس بھی تفتیش کر رہی ہے۔
پولیس نے اس سے قبل ایک اور واقعے میں ایسے دو مشتبہ افراد کو گرفتار کیا جنہوں نے ایک یہودی عبادت گاہ کو آگ لگانے کی کوشش کی۔ یہ یہودی عبادت گاہ کو آگ لگانے کا واقعہ شمالی لندن میں پیش آیا تھا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ان دونوں واقعات کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے۔
پچھلے ماہ یہودی کمیونٹی کے لیے کام کرنے والی بعض ایمبولینسز کو آگ لگانے کی کوشش کی گئی تھی۔ یہ واقعہ بھی شمالی لندن میں پیش آیا تھا۔ برطانوی حکام نے اس سے پہلے خبردار کیا تھا کہ ایرانی رجیم مخالف صحافیوں کو ہدف بنایا جا سکتا ہے۔
برطانوی جاسوسی ادارے 'ایم آئی 5' کے سربراہ نے پچھلے سال اکتوبر میں کہا تھا کہ برطانوی پولیس نے ایسے 20 ایرانیوں کا پیچھا کیا ہے جو برطانوی شہریوں کو قتل یا اغوا کرنے کی سازش تیار کر رہے تھے۔