مصری صدر عبدالفتاح السیسی کی ہدایات کے بعد جن میں پرسنل اسٹیٹس قانون پر ازسرِنو غور کرنے کی بات کی گئی تھی، مصر میں سیاسی اور سماجی حلقوں میں بحث میں تیزی آ گئی ہے، اس دوران خاندان کے استحکام اور اس کے تحفظ سے متعلق مختلف تجاویز بھی سامنے آ رہی ہیں۔
اس تناظر میں مصری پارلیمان کی رکن امیرہ فواد نے ایک تجویز پیش کی ہے، جس کے مطابق اگر شوہر کے منشیات استعمال کرنے یا ایسی ذہنی بیماری میں مبتلا ہونے کا ثبوت مل جائے جو ازدواجی زندگی پر براہِ راست اثر ڈالتی ہو تو بیوی کو طلاق کا حق دیا جا سکے۔
اس مقصد کے لیے اچانک طبی ٹیسٹ کروانے کی شرط بھی رکھی گئی ہے تاکہ نتائج میں کسی قسم کی ہیرا پھیری کو روکا جا سکے۔
نائب رکن پارلیمان نے ''العربیہ ڈاٹ نیٹ'' اور'' الحدث ڈاٹ نیٹ'' سے گفتگو میں کہا کہ نشہ آور ادویات کا استعمال محض ایک عارضی عادت نہیں بلکہ ایک خطرناک اور مزمن بیماری ہے، جو پورے خاندان کے استحکام کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
ان کے مطابق نشے کا عادی شوہر اکثر اپنی بیوی اور بچوں کی ذمہ داریاں نبھانے کے قابل نہیں رہتا، جس سے نہ صرف معاشی مسائل پیدا ہوتے ہیں بلکہ خاندان کی نفسیاتی اور سماجی ساخت بھی متاثر ہوتی ہے۔
بیوی اور بچوں کا تحفظ
انہوں نے مزید کہا کہ اس تجویز کا بنیادی مقصد سزا دینا نہیں بلکہ بیوی اور بچوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔ ان کے مطابق ہر عورت کا یہ حق ہے کہ وہ ایک محفوظ اور مستحکم ماحول میں زندگی گزارے، اگر شوہر کے منشیات کے استعمال سے اس کی زندگی متاثر ہو رہی ہو تو اسے بغیر پیچیدہ قانونی رکاوٹوں کے طلاق کا حق ملنا چاہیے۔
نائب رکن نے وضاحت کی کہ اس تجویز میں نشہ آور مواد کے استعمال کو ثابت کرنے کے لیے ایک واضح طریقہ کار بھی شامل کیا گیا ہے، جس کے تحت اچانک اور باضابطہ اداروں کی نگرانی میں ڈرگ ٹیسٹ کروائے جائیں گے تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور کسی قسم کی جعلسازی یا نتائج میں رد و بدل کے امکانات ختم کیے جا سکیں۔
ان کے مطابق اچانک ٹیسٹ اس لیے بھی اہم ہیں کیونکہ یہ حقیقت تک پہنچنے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہیں اور کسی بھی قسم کی چالاکی یا بہانے بازی کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ تجویز علاج کے پہلو کو بھی مدنظر رکھتی ہے، یعنی اگر شوہر علاج کے مرحلے سے گزر رہا ہو تو اسے بہتری کا موقع دیا جائے گا۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اگر علاج کے بعد دوبارہ نشے کی طرف رجوع کیا جائے تو اسے اس بات کا ثبوت سمجھا جائے گا کہ خطرہ برقرار ہے اور اس صورت میں بیوی کو مکمل حق حاصل ہوگا کہ وہ اپنی اور اپنے بچوں کی حفاظت کے لیے رشتہ ختم کرنے کا فیصلہ کرے۔
قبل از ازدواج طبی اور نفسیاتی معائنوں کی تجویز
نائب رکن پارلیمان نے اس بات پر زور دیا کہ شادی کے خواہشمند افراد کے لیے نکاح سے قبل جامع طبی معائنہ ضروری ہونا چاہیے، جس میں منشیات کے استعمال کے ٹیسٹ، مکمل میڈیکل چیک اپ اور نفسیاتی جائزہ شامل ہو۔
ان کے مطابق ان میں سے کچھ ٹیسٹ اچانک کیے جانے چاہئیں تاکہ ان کی درستگی اور شفافیت برقرار رہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک مضبوط اور صحت مند خاندان کی بنیاد باہمی شفافیت پر ہوتی ہے، یہ معائنہ آئندہ پیدا ہونے والے مسائل کو کم کرنے کے لیے ایک اہم قدم ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ تجاویز موجودہ سماجی و خاندانی چیلنجز کے پیش نظر پرسنل اسٹیٹس قانون کو بہتر بنانے کی کوشش کا حصہ ہیں، جن کا مقصد حقوق اور ذمہ داریوں کے درمیان توازن قائم کرنا اور مصری معاشرے میں خاندان کے ادارے کو مضبوط بنانا ہے، کیونکہ خاندان ہی معاشرے کی بنیادی اکائی ہے۔
دوسری جانب ماہرِ نفسیات جمال فرویز نے ''العربیہ ڈاٹ نیٹ'' اور ''الحدث ڈاٹ نیٹ'' سے گفتگو میں کہا کہ منشیات کا استعمال طلاق کی شرح میں اضافے کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔
ان کے مطابق بہت سے ازدواجی مسائل اس وقت سامنے آتے ہیں، جب شادی سے پہلے ایک فریق اپنی نشے کی عادت کو چھپاتا ہے، شادی کے بعد حقیقت سامنے آنے پر دوسرا فریق شدید ذہنی اور جذباتی صدمے سے دوچار ہوتا ہے، جو اکثر رشتے کے خاتمے پر منتج ہوتا ہے۔
متعدد شخصیتی اقسام
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ کچھ شخصیتی اقسام ایسی ہوتی ہیں، جو نشے کی طرف زیادہ آسانی سے مائل ہو سکتی ہیں۔ ان میں معاشرتی طور پر منقطع یا دوسروں کے خلاف رویہ رکھنے والی ''سائیکوپیتھک ''شخصیت، شدید اور جارح مزاج شخصیت، حد درجہ جذباتی اور غیر متوازن بارڈر لائن شخصیت اور حد سے زیادہ انحصار کرنے والی ڈیپینڈنٹ شخصیت شامل ہیں۔
ان کے مطابق ہر شخصیت دباؤ اور مسائل کا سامنا مختلف انداز میں کرتی ہے، بعض اوقات یہی رویے انسان کو نشے کی طرف بطور فرار یا اپنی اہمیت ثابت کرنے کے لیے دھکیل دیتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مثال کے طور پر سائیکوپیتھک شخصیت میں جذبات کی کمی اور دوسروں کے احساسات سے بے نیازی پائی جاتی ہے، ایسی شخصیت شادی کے آغاز میں بظاہر مثالی رویہ اختیار کر سکتی ہے، مگر بعد میں اس کی اصل فطرت سامنے آ جاتی ہے۔
اسی طرح بارڈر لائن شخصیت میں مزاج کی شدید تبدیلیاں اور غیر متوقع جذباتی فیصلے دیکھے جاتے ہیں، جو بعض اوقات نشے جیسے رویوں میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔ جبکہ ڈیپینڈنٹ شخصیت اکثر خاندان پر حد سے زیادہ انحصار کرتی ہے، شادی کے بعد یہ انحصار شریکِ حیات پر منتقل ہو جاتا ہے، جس کے نتیجے میں بعض افراد احساسِ ناکامی یا ذمہ داری سے فرار کے لیے نشے کا سہارا لے سکتے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نشے سے نجات ایک مشکل عمل ہے اور اس کی کامیابی اسی وقت ممکن ہے، جب فرد کے اندر حقیقی طور پر بہتری کی خواہش موجود ہو۔
اگر اندرونی طور پر تبدیلی کا عزم نہ ہو تو دوبارہ نشے کی طرف لوٹنے کا خطرہ ہمیشہ برقرار رہتا ہے۔
جمال فرویز نے قبل از ازدواج منشیات کے ٹیسٹ کی تجویز کی حمایت کرتے ہوئے اسے خاندانی تحفظ کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا اور کہا کہ شفافیت کے ساتھ شروع ہونے والا رشتہ ہی مستحکم اور کامیاب ازدواجی زندگی کی بنیاد بن سکتا ہے، خصوصاً اس وقت جب طلاق کی شرح میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔