افریقہ سے سامنے آنے والی غیر معمولی صورتحال، سب دنگ رہ گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 8 منٹ

جب افریقہ کے قدرتی مناظر کا تصور کیا جاتا ہے ،تو عموماً ذہن میں گرد و غبار، خشک سالی اور کم سبزہ آتا ہے، لیکن وسطی تنزانیہ میں کسان ایک بالکل مختلف اور حیران کن منظر دیکھ رہے ہیں۔

وہاں درخت دوبارہ اُن علاقوں میں اُگتے نظر آ رہے ہیں، جہاں دہائیوں پہلے انہیں کاٹ دیا گیا تھا اور یہ سب کچھ اس کے باوجود ہو رہا ہے کہ کسی نے نئے پودے نہیں لگائے۔

''اسلوب کسیسی کے ہائے''

Econews ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق یہ منظر کسی جادو کا نتیجہ نہیں بلکہ مؤثر انتظامی حکمتِ عملی کا نتیجہ ہے۔

اس طریقہ کار میں نئے سرے سے آغاز کرنے کے بجائے مقامی کمیونٹیز زیرِ زمین موجود زندہ جڑوں اور تنوں کے نظام کے ساتھ کام کرتی ہیں، جو مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے ہوتے۔

اس تکنیک کو کسانوں کے زیرِ انتظام قدرتی تجدید (FMNR) کہا جاتا ہے، جبکہ مقامی طور پر اسے ''کسیسی کے ہائے'' کہا جاتا ہے، جس کا مطلب سواحلی زبان میں “زندہ تنا” ہے۔

دن کی روشنی میں چھپا ہوا جنگل

کٹی ہوئی درخت بظاہر مکمل طور پر ختم شدہ لگ سکتے ہیں، خاص طور پر خشک زمینوں میں جہاں مٹی سخت ہو جاتی ہے اور نباتات کے لیے بڑھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ لیکن کئی کھیتوں میں درخت کے تنوں کا جڑوں کا نظام زندہ رہتا ہے اور چھوٹی کونپلیں نکالتا ہے، جو کمزور جھاڑیوں کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔FMNR (Farmer Managed Natural Regeneration) یعنی جڑوں سے قدرتی تجدید کی تکنیک میں کسان ان کونپلوں میں سے مضبوط ترین شاخوں کا انتخاب کرتے ہیں اور باقی کو کاٹ دیتے ہیں۔

اس سے پودے کی جمع شدہ توانائی چند مضبوط تنوں پر مرکوز ہو جاتی ہے، جس سے وہ بہتر طور پر بڑھتے ہیں۔اس کے ساتھ ہی کسان ان شاخوں کو جانوروں کے چرنے سے بھی محفوظ رکھتے ہیں، تاکہ وہ دوبارہ مکمل درخت بن سکیں۔

بقا کا چیلنج

درخت لگانے کی بڑی مہمات تصاویر میں تو بہت متاثر کن لگتی ہیں، لیکن اصل چیلنج ان درختوں کو زندہ رکھنا ہوتا ہے۔

ساحل (Sahel) کے علاقے میں محققین اور ماہرین کے مطابق 80 فیصد یا اس سے زیادہ لگائے گئے پودے مر جاتے ہیں، جس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ شتلات کو ایسے علاقوں میں طویل مدت تک پانی اور مسلسل دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے ،جہاں یہ دونوں چیزیں نایاب ہوتی ہیں۔

اسی وجہ سے موجودہ جڑوں سے دوبارہ افزائش کا طریقہ زیادہ مؤثر سمجھا جاتا ہے۔ پرانے درخت کے تنوں کے پاس زمین کے اندر ایک مضبوط اور گہرا جڑوں کا نظام پہلے سے موجود ہوتا ہے، جو نئے اُگنے والے درختوں کو ایک بہتر آغاز دیتا ہے۔ اس کے برعکس شتلات کو پانی تک پہنچنے کے لیے کئی سال درکار ہوتے ہیں۔

نئی نشوونما کی حفاظت

تنزانیہ میں مقامی شراکت داروں کے ساتھ کام کرنے والی تنظیم ''جسٹ ڈیجیٹ'' کے مطابق ''کسیسی کے ہائے'' ایک سادہ نظام ہے جسے ہر موسم میں آسانی سے اپنایا جا سکتا ہے۔

اس طریقہ کار میں کسان ان تنوں کی نشاندہی کرتے ہیں جنہیں محفوظ رکھنا ضروری ہوتا ہے، پھر انہیں اس حد تک چھانٹ دیتے ہیں کہ صرف مضبوط کونپلیں باقی رہ جائیں اور پورے سال اس نئی نشوونما کی حفاظت جاری رکھتے ہیں۔

یہ نظام مقامی زبان سواحلی میں چار یاددہانی مراحل کی صورت میں سکھایا جاتا ہے، جسے ''چابوا تو'' کہا جاتا ہے۔ اس میں انتخاب، چھنٹائی، نشان دہی اور مسلسل حفاظت پر زور دیا جاتا ہے۔

آخری مرحلہ خاص طور پر اہم ہے، کیونکہ اگر بکریاں یا مویشی وقت سے پہلے ان کونپلوں کو چر لیں تو جو درخت کل کو بڑھ کر تناور ہونا تھا، وہ مستقبل میں ایندھن (لکڑی) بن کر رہ جاتا ہے۔

113 ملین ایکڑ جنگلات

تنزانیہ کے جنگلات زیادہ تر قدرتی نشوونما کی ایک مثال سمجھے جاتے ہیں۔ جنگلاتی رجحانات کے ڈیٹا بورڈ کے مطابق جو اقوامِ متحدہ کی فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (FAO) کو پیش کی جانے والی قومی رپورٹس کا خلاصہ پیش کرتا ہے، سال 2020 میں جنگلات کا رقبہ تقریباً 113 ملین ایکڑ تک پہنچ گیا تھا۔

اس میں تقریباً 111 ملین ایکڑ قدرتی طور پر دوبارہ اگنے والے جنگلات شامل ہیں، جبکہ تقریباً 1اعشاریہ24 ملین ایکڑ ایسے جنگلات ہیں جو انسانوں نے لگائے۔

ڈودوما کے علاقے میں جہاں 2015 سے قدرتی جنگلات کی بحالی کا پروگرام جاری ہے اور 2018 سے اس میں توسیع کی گئی ہے، وہاں کے حالات فطری طور پر سخت ہیں۔ یہاں سالانہ بارش صرف 400 سے 570 ملی میٹر کے درمیان ہوتی ہے اور زیادہ تر خاندان بارانی زراعت پر انحصار کرتے ہیں۔

لکڑی اب بھی توانائی کا اہم ذریعہ ہے، جس کی وجہ سے درختوں پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔پراجیکٹ کے شراکت داروں کے مطابق زمینی سطح پر اس کا اثر تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

Justdiggit کے اعداد و شمار کے مطابق ڈودوما میں 15اعشاریہ2 ملین سے زیادہ درخت دوبارہ اگائے جا چکے ہیں، تقریباً 7 لاکھ 68 ہزار ایکڑ زمین بحال کی گئی ہے، جبکہ پانی کے تحفظ کے لیے 120 کلومیٹر طویل کونٹور کھدائیاں کی گئی ہیں اور 2024 میں تقریباً 5اعشاریہ5 ارب لیٹر پانی محفوظ کیا گیا ہے۔

کھیتوں کی ٹھنڈک اور روزمرہ زندگی میں تبدیلی

2024 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق جو PLOS Climate نامی جریدے میں شائع ہوئی، یہ ظاہر کرتی ہے کہ تنزانیہ کے وسطی خشک علاقوں میں FMNR (قدرتی وسائل کے مربوط انتظام) اپنانے والے دیہی گھرانے قدرتی تجدید اور صحت و خوشحالی کے درمیان گہرے تعلقات کو واضح طور پر محسوس کرتے ہیں۔

یہ نتائج چار دیہات میں کیے گئے اجتماعی مباحثوں پر مبنی ہیں۔جو لوگ شدید دھوپ میں کھلے میدانوں میں کام کر چکے ہیں، ان کے لیے ان اثرات کا تصور کرنا آسان ہے۔ AFR100 منصوبے کی ایک رپورٹ میں ایک کسان بتاتا ہے کہ ''کسیسی کے ہائے'' کے ذریعے درختوں کا سایہ شامل ہونے سے سبزیوں پر براہِ راست دھوپ کم ہو گئی، جس سے نہ صرف ان کی نشوونما بہتر ہوئی بلکہ ان کے ذائقے میں بھی بہتری محسوس کی گئی۔

یہ بظاہر ایک چھوٹی سی تفصیل ہے، لیکن یہی اس تصور کی اہمیت کو مضبوط کرتی ہے۔مزید وسیع سطح پر دیکھا جائے تو بڑھتا ہوا سایہ زمین کا درجہ حرارت کم کرتا ہے اور مٹی میں نمی برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے، جس سے خشک سالی کے سخت ادوار میں فصلوں کی زندگی بڑھ جاتی ہے۔

ایسے حالات میں ہر ابر آلود دن ایک قیمتی موقع محسوس ہوتا ہے۔ تاہم یہ فائدے اسی وقت پوری طرح حاصل ہوتے ہیں جب درختوں کو اتنی حفاظت ملے کہ وہ مکمل طور پر نشوونما پا سکیں۔


اصل چیلنج

قدرتی وسائل کے مربوط انتظام (FMNR) کوئی ''لگاؤ اور بھول جاؤ'' والی حکمتِ عملی نہیں ہے اور نہ ہی یہ صرف وسائل فراہم کرنے کا نظام ہے۔

یہ دراصل ایک زرعی عادت کے قریب تر طریقہ ہے، جو مقامی علم، بار بار کی جانے والی چھنٹائی اور چرائی اور درخت کاٹنے سے متعلق سماجی اصولوں پر انحصار کرتا ہے۔اسی وجہ سے کامیاب پروگراموں میں تربیت اور مسلسل نگرانی کو بنیادی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔

ڈودوما کے پروگرام کے مطابق 110000 سے زائد کسانوں کو اس عمل میں شامل کیا گیا ہے اور اب ایک طویل المدتی پائیداری کے مرحلے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے تاکہ شدید بیرونی مدد ختم ہونے کے بعد بھی مقامی کمیونٹیز بحال شدہ زمینوں کی دیکھ بھال جاری رکھ سکیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں