تاریخ کے بعض فیصلے ایسے ہوتے ہیں، جو آنے والے وقت کی سیاست اور طاقت کے توازن کو مکمل طور پر بدل دیتے ہیں۔ یورپ کی تاریخ میں آسٹریا کے شہنشاہ چارلس ششم (Charles VI)کا ایک ایسا ہی اہم فیصلہ سامنے آتا ہے، جس نے بعد میں ایک بڑی جنگ اور سیاسی بحران کی بنیاد رکھی۔ اپنی بیٹی ماریہ تھریسا (Maria Theresa) کی پیدائش سے چند سال پہلے انہوں نے سلطنت کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے ایک ایسا قانونی راستہ اختیار کیا، جس کے ذریعے مرد وارث نہ ہونے کی صورت میں ان کی بیٹی بھی تخت کی وارث بن سکتی تھی۔ یہ اقدام بظاہر ایک انتظامی فیصلہ تھا، لیکن اس کے اثرات پورے یورپ کی سیاست پر گہرے پڑے۔
1740 میں چارلس ششم کی وفات کے بعد کئی یورپی طاقتوں نے اس فرمان کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور شہنشاہ کی موت کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی، جس کی وارث ان کی بیٹی ماریہ تھریسا بنی۔
اسی کے نتیجے میں 1740 میں آسٹریا کی جانشینی کی جنگ شروع ہوئی ،جس نے تقریباً آٹھ سال تک یورپ کو ہلا کر رکھ دیا
۔
آسٹریا کی جانشینی کی جنگ کا آغاز
آسٹریا کی جانشینی کی جنگ کا آغاز اس وقت ہوا ،جب پروشیا، فرانس اور باویریا نے ماریہ تھریسا کے آسٹریا کے تخت پر حق کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔
ان ممالک نے ایک اتحاد بنایا جو ماریہ تھریسا کے خلاف تھا، جبکہ دوسری طرف برطانیہ، جمہوریہ ہالینڈ اور ہنوور نے اسے '' عملی فرمان کے اتحاد '' کے تحت حمایت دی۔بعد میں یورپ کی کئی دیگر طاقتیں بھی اس جنگ میں شامل ہو گئیں۔
روس نے ماریہ تھریسا کے حق میں آسٹریا کے تخت کی حمایت کی، جبکہ اسپین اور سویڈن نے مخالف اتحاد کا ساتھ دیا جس میں فرانس، پروشیا اور باویریا شامل تھے۔
یہ جنگ 7 سال سے زیادہ (تقریباً 7 سال اور 10 ماہ) جاری رہی اور 1748 میں معاہدۂ ایکس لا شاپیل (Aix-la-Chapelle) کے ذریعے ختم ہوئی۔
اس دوران سیکسونی اور سیوائے جیسے کچھ ممالک نے اپنے اتحاد بھی تبدیل کیے۔ اس جنگ کے نتیجے میں 7 لاکھ 50 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک یا زخمی ہوئے، زرعی زمینوں کو شدید نقصان پہنچا اور معاشی و تجارتی بحران پیدا ہوا۔
معاہدۂ ایکس لا شاپیل
آسٹریا کی جانشینی کی جنگ ختم کرنے کے لیے 1746 میں ہالینڈ کے شہر بریڈا میں فرانس اور برطانیہ کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہوا۔
اس دوران برطانیہ نے کئی بار مذاکرات کو تاخیر کا شکار کرنے کی کوشش کی تاکہ جنگ کے میدان میں اپنی پوزیشن بہتر بنا سکے، لیکن جب وہ کامیاب نہ ہو سکا ،تو آخرکار اس نے فرانس کے ساتھ مل کر ایک مسودہ تیار کرنے پر رضامندی ظاہر کی، جو 30 اپریل 1748 تک مکمل ہو گیا۔
بعد میں ایک باقاعدہ معاہدہ تیار کیا گیا جس پر 18 اکتوبر 1748 کو ایکس لا شاپیل میں فرانس، برطانیہ اور جمہوریہ ہالینڈ نے دستخط کیے۔
اس کے بعد معاہدے کی شرائط دیگر جنگ میں شامل فریقین کو بھی بھیجی گئیں تاکہ وہ اسے قبول کریں یا مسترد کریں۔
ان ممالک کے سامنے یا تو امن قبول کرنے یا اکیلے جنگ جاری رکھنے کا انتخاب رکھا گیا۔
یہ معاہدہ آسٹریا کے لیے مکمل طور پر فائدہ مند نہیں تھا، تاہم ماریا تھریسا کو آسٹریا کا تخت برقرار رکھنے کا حق مل گیا۔ اس کے برعکس اسپین کے لیے یہ معاہدہ نسبتاً بہتر تھا کیونکہ اسے کچھ نئے علاقے ملے، جبکہ آسٹریا کو کچھ علاقوں سے محروم ہونا پڑا۔
اس طرح یہ معاہدہ جنگ کے خاتمے کا سبب بنا لیکن یورپی طاقتوں کے درمیان توازنِ طاقت کو بھی تبدیل کر گیا۔
معاہدے کے باعث نئی جنگ
معاہدۂ ایکس لا شاپیل کی شرائط کو زیادہ تر فریقین نے غیر اطمینان بخش قرار دیا۔ جہاں پروشیا کو نئے علاقے ملے اور وہ ایک اہم علاقائی طاقت بن گیا، وہاں فرانس، اسپین، برطانیہ، آسٹریا اور دیگر فریق اس معاہدے سے ناخوش رہے۔
اگلے چند سالوں میں اس معاہدے نے یورپ میں اتحادوں کو بدل دیا اور اسی میں سات سالہ جنگ (1756) کے بیج چھپے ہوئے تھے۔
یہ جنگ بعد میں بھڑک اٹھی اور اس کے نتیجے میں فرانس کو شمالی امریکہ میں اپنی کئی بڑی نوآبادیات سے ہاتھ دھونا پڑا، جو برطانیہ اور اسپین کے قبضے میں چلی گئیں۔