شدید گرمی کی لہریں دنیا کے غذائی نظاموں کے لیے خطرہ بن رہی ہیں : اقوام متحدہ
عالمی حدت میں اضافے کی رفتار تیز ہو رہی ہے اور سال 2025 اب تک کے گرم ترین تین سالوں میں شامل ہو چکا ہے
خوراک اور موسمیات سے متعلق اقوام متحدہ کی دو ایجنسیوں کی جانب سے جاری کردہ ایک نئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شدید گرمی کی لہریں عالمی زرعی و غذائی نظام کو تباہی کے دہانے پر دھکیل رہی ہیں، جس سے ایک ارب سے زائد افراد کی صحت اور روزگار کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ادارے برائے خوراک و زراعت (FAO) اور عالمی موسمیاتی تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ شدید گرمی کی لہریں اب پہلے سے زیادہ تواتر کے ساتھ، زیادہ شدت اور طویل دورانیے کے لیے آ رہی ہیں، جو فصلوں، مال مویشی، ماہی گیری اور جنگلات کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔
ایف اے او میں موسمیاتی تبدیلی، حیاتیاتی تنوع اور ماحولیات کے شعبے کے ڈائریکٹر کاوہ زاہدی کا کہنا ہے کہ "شدید گرمی اس نقشے کو دوبارہ ترتیب دے رہی ہے کہ کسان، ماہی گیر اور جنگلات میں کام کرنے والے مزدور کیا اور کب کاشت کر سکتے ہیں۔ بلکہ بعض صورتوں میں تو یہ اس بات کا تعین بھی کر رہی ہے کہ آیا وہ اب کام جاری رکھ بھی سکتے ہیں یا نہیں۔"
انہوں نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا "بنیادی طور پر یہ رپورٹ ہمیں بتا رہی ہے کہ ہم ایک انتہائی غیر یقینی مستقبل کی طرف بڑھ رہے ہیں۔"
موسمیات سے متعلق حالیہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی درجہ حرارت میں اضافے کی رفتار تیز ہو رہی ہے اور سال 2025 اب تک کے گرم ترین تین سالوں میں شامل ہو چکا ہے، جس کے نتیجے میں شدید موسمی واقعات پہلے سے زیادہ کثرت اور شدت کے ساتھ رونما ہو رہے ہیں۔
شدید گرمی خطرات کی سنگینی میں اضافہ کر دیتی ہے، کیونکہ اس سے خشک سالی، جنگلات کی آگ اور کیڑوں کے حملوں میں اضافہ ہوتا ہے، جبکہ درجہ حرارت کی مخصوص حد پار ہوتے ہی فصلوں کی پیداوار میں شدید کمی واقع ہو جاتی ہے۔
رپورٹ میں ذکر کیا گیا ہے کہ درجہ حرارت میں بہت زیادہ اضافہ اس حفاظتی حد کو کم کر دیتا ہے جس پر پودوں، جانوروں اور انسانوں کے کام کرنے کا دارومدار ہوتا ہے، کیونکہ درجہ حرارت 30 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کرنے پر زیادہ تر اہم فصلوں کی پیداوار کم ہو جاتی ہے۔
زاہدی نے اس کی مثال مراکش سے دی، جہاں چھ سالہ خشک سالی کے بعد گرمی کی بے مثال لہریں آئیں۔ انہوں نے کہا "اس کی وجہ سے اناج کی فصل میں 40 فی صد سے زائد کمی واقع ہوئی، جبکہ زیتون اور مالٹے کی فصلیں بھی تباہ ہو گئیں۔"
سمندروں میں بھی گرمی کی لہریں بڑھ رہی ہیں، جس سے پانی میں آکسیجن کی سطح کم ہو رہی ہے اور مچھلیوں کے ذخائر کو خطرہ لاحق ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2024 میں دنیا کے 91 فی صد سمندروں نے کم از کم ایک بار بحری گرمی کی لہر کا سامنا کیا۔
عالمی درجہ حرارت میں اضافے کے ساتھ ساتھ یہ خطرات تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ درجہ حرارت میں 1.5 ڈگری کے مقابلے میں 2 ڈگری اضافے پر شدید گرمی کے واقعات کی شدت تقریباً دو گنا ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ 3 ڈگری اضافے پر یہ شدت چار گنا بڑھ جائے گی۔
زاہدی کا کہنا تھا کہ عالمی اوسط درجہ حرارت میں ہر ایک ڈگری کا اضافہ دنیا کی چار اہم فصلوں یعنی مکئی، چاول، سویا بین اور گندم کی پیداوار میں تقریباً چھ فی صد کمی کا باعث بنتا ہے۔
دونوں تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ جزوی اقدامات کافی نہیں ہیں۔ انہوں نے خطرات کے بہتر انتظام اور موسم کے بارے میں قبل از وقت اطلاع دینے والے نظاموں کی بہتری پر زور دیا ہے تاکہ کسانوں اور ماہی گیروں کو حفاظتی اقدامات کرنے میں مدد مل سکے۔
زاہدی نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا "اگر آپ کسانوں تک متعلقہ معلومات پہنچانے میں کامیاب ہو جائیں، تو وہ اپنی بوائی کے وقت، فصل کی قسم اور کٹائی کے وقت میں تبدیلی کر کے حالات کے مطابق ڈھل سکتے ہیں۔"
تاہم رپورٹ میں اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ صرف حالات کے مطابق ڈھل جانا ہی کافی نہیں ہے، بلکہ اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ شدید گرمی کے بڑھتے ہوئے خطرے کا واحد مستقل حل موسمیاتی تبدیلیوں کو روکنے کے لیے پُرعزم اور مربوط اقدامات میں مضمر ہے۔
-
دو ریاستی حل کے نفاذ کے لیے بین الاقوامی اتحاد کا نواں اجلاس منعقد
علاقائی سلامتی کو فلسطینی سلامتی سے الگ نہیں کیا جا سکتا: سعودی عرب
مشرق وسطی -
اقوامِ متحدہ کی ایجنسی نےآبنائے ہرمزسے سینکڑوں بحری جہازوں کے انخلاء کا منصوبہ تیار کر لیا
انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن (آئی ایم او) ان سینکڑوں بحری جہازوں کے انخلاء کے ...
مشرق وسطی -
"سگنل اسکینڈل" کےایک سال بعد والٹزکی نمایاں واپسی..اقوام متحدہ میں ٹرمپ انتظامیہ کاچہرہ
ٹرمپ ایران کے حوالے سے امریکی انتظامیہ کا نقطہ نظر واضح کرنے کے لیے ان پر بھروسہ ...
بين الاقوامى