عمان کے قریب بحری جہاز پر ایرانی جنگی کشتی کے حملے کی اطلاع ہے : برطانوی میری ٹائم
کسی قسم کی آگ لگنے یا ماحولیاتی نقصان کی اطلاع نہیں ملی
برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے آج بدھ کے روز بتایا کہ اسے سلطنت عمان کے شمال مشرق میں 15 سمندری میل کے فاصلے پر ایک واقعے کی اطلاع ملی ہے، جہاں ایک کنٹینر جہاز کے کپتان نے ایرانی پاسداران انقلاب کی ایک جنگی کشتی کے قریب آنے کی اطلاع دی ہے۔
اس کے بعد جہاز پر فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں کنٹرول روم کو شدید نقصان پہنچا، تاہم کسی قسم کی آگ لگنے یا ماحولیاتی نقصان کی اطلاع نہیں ملی اور عملے کے تمام ارکان خیریت سے ہیں۔
شپنگ ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ منگل کے روز آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری نقل و حرکت تقریباً معطل رہی، کیونکہ گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران اس آبنائے سے صرف تین بحری جہاز گزرے۔
ایرانی بندرگاہوں کے امریکی حصار نے تہران کو مشتعل کر دیا ہے، جس کے رد عمل میں اس نے اس آبنائے پر اپنی پابندیاں عائد کر دی ہیں جہاں سے دنیا کے تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل (رسد) کا 20 فی صد حصہ گزرتا تھا۔
پینٹاگان نے اعلان کیا ہے کہ امریکی افواج نے پابندیوں کا شکار تیل کے ایک ٹینکر کو روکا اور اس پر سوار ہوئیں، جو کہ تقریباً ایک ہفتہ قبل ایران پر بحری حصار کے نفاذ کے بعد اس نوعیت کی پہلی کارروائی ہے۔ پینٹاگان نے واضح کیا کہ ٹینکر پر کوئی جھنڈا نہیں لہرا رہا تھا، جس سے قانونی طور پر اسے روکنا آسان ہو گیا اور اس کارروائی کے دوران کسی تصادم کی اطلاع نہیں ملی۔
'میرین ٹریفک' پلیٹ فارم پر جہازوں کی ٹریکنگ کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ مال بردار بحری جہاز "ایان سپیئر" گذشتہ روز منگل کو عراقی بندرگاہ پر لنگر انداز ہونے کے بعد آبنائے ہرمز سے گزرا۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ امن مذاکرات کے مزید مواقع فراہم کرنے کے لیے ایران کے ساتھ جنگ بندی میں غیر معینہ مدت تک توسیع کریں گے، لیکن بدھ کے روز یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا ایران یا دو ماہ قبل شروع ہونے والی جنگ میں امریکہ کی اتحادی ریاست اسرائیل اس پر اتفاق کرے گی یا نہیں۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کہا کہ امریکہ نے پاکستانی ثالثوں کی اس درخواست کو منظور کر لیا ہے کہ "ایران پر ہمارا حملہ اس وقت تک روک دیا جائے جب تک کہ اس کے قائدین اور نمائندے ایک متفقہ تجویز پیش نہ کر دیں... اور بات چیت کو کسی نہ کسی طرح نتیجے تک پہنچا سکیں"۔
پاکستانی رہنماؤں نے اسلام آباد میں اس جنگ کے خاتمے کے لیے امن مذاکرات کی میزبانی کی ہے جس نے ہزاروں جانیں لے لی ہیں اور عالمی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
تاہم یک طرفہ طور پر بظاہر جنگ بندی میں توسیع کے اعلان کے باوجود، ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ سمندر کے راستے ایرانی تجارت پر امریکی بحریہ کا محاصرہ جاری رکھیں گے، جسے تہران نے جنگی کارروائی قرار دیا ہے۔
ٹرمپ کے اعلان پر بدھ کی صبح تک اعلیٰ ایرانی حکام کی جانب سے کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا، لیکن تہران سے ملنے والے بعض ابتدائی رد عمل سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ امریکی صدر کے تبصروں کو شک کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔