امریکی حکام کی جانب سے اس تصدیق کے بعد کہ ایران کی عسکری صلاحیتیں نقصان پہنچنے کے باوجود مکمل طور پر تباہ نہیں ہوئی ہیں، وائٹ ہاؤس نے ان خبروں کی سختی سے تردید کر دی ہے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب اس بات پر زور دیا کہ میڈیا میں ایرانی صلاحیتوں کے باقی رہ جانے سے متعلق شائع ہونے والی رپورٹیں بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کی میزائل اور ڈرونز بنانے اور ذخیرہ کرنے کی صلاحیتوں میں برسوں کی کمی واقع ہو چکی ہے اور ایران کی دفاعی صنعتی بنیاد تقریباً مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے۔
دوسری جانب انٹیلی جنس جائزوں سے واقف متعدد امریکی حکام نے بتایا ہے کہ تہران کے پاس اب بھی وائٹ ہاؤس اور پینٹاگان کے اعتراف سے کہیں زیادہ عسکری صلاحیتیں موجود ہیں۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق تین حکام نے انکشاف کیا کہ 8 اپریل کو جنگ بندی کے آغاز تک ایران کے بیلسٹک میزائلوں کا تقریباً نصف ذخیرہ اور ان کے لانچنگ سسٹم اب بھی سلامت تھے۔ حکام کا مزید کہنا تھا کہ پاسدارانِ انقلاب کی بحری شاخ کا تقریباً 60 فی صد حصہ، بشمول تیز رفتار حملہ آور کشتیاں، اب بھی برقرار ہے، جبکہ ایرانی فضائیہ کو بڑا نقصان پہنچا ہے لیکن وہ مکمل تباہ نہیں ہوئی اور اس کا دو تہائی حصہ اب بھی آپریشنل سمجھا جاتا ہے۔
اس کے برعکس، پینٹاگان کے ترجمان شون بارنیل نے جنگ کو کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے 40 دن سے بھی کم عرصے میں 13 ہزار سے زائد ایرانی ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر ایرانی نظام کو کاری ضرب لگائی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایران کی 92 فی صد بڑی بحری کشتیاں اور 44 مائن لیئنگ بحری جہاز تباہ کیے گئے، جو دوسری جنگ عظیم کے بعد کسی بھی بحری بیڑے کی مختصر ترین وقت میں سب سے بڑی تباہی ہے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے پہلے ہی یہ دعویٰ کیا تھا کہ Operation Epic Fury نے عملی طور پر ایران کی عسکری طاقت ختم کر دی ہے۔ تاہم، ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی (DIA) کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل جیمز ایڈمز نے ہاؤس آرمڈ سروسز کمیٹی کو دی گئی بریفنگ میں خبردار کیا ہے کہ ایران اب بھی ہزاروں میزائلوں اور ڈرونز کی بدولت خطے میں امریکی افواج کے لیے خطرہ بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یاد رہے کہ 24 فروری سے شروع ہونے والی اس جنگ میں ایران کو بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے، جس میں درجنوں بحری جہازوں اور میزائل مراکز کی تباہی کے علاوہ کئی اہم عسکری و سیاسی رہنماؤں کی ہلاکت بھی شامل ہے۔