سعودی عرب: بغیر لائسنس حجاج کی خوراک تیار اور ذخیرہ کرنے پر کروڑ ریال سزا کا اعلان

مناسک ادا کرنے والوں کی خوراک اور دوا کی سلامتی اولین ترجیح ہے: سعودی فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

سعودی عرب نے ادویات اور خوراک کے شعبے کو ایسے احکامات اور ایگزیکٹو ضوابط کا پابند کر دیا ہے جو سرکاری قانونی لائسنس حاصل کیے بغیر حجاج کے لیے مخصوص غذائی اشیاء کی تیاری یا ذخیرہ اندوزی نہ کرنے کی شرط رکھتے ہیں۔ ان احکامات کے تحت خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے ایک کروڑ ریال تک جرمانہ یا دس سال تک قید کی سزائیں مقرر کردی گئی ہے۔

سعودی فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی ۔ جو مملکت میں ادویات اور خوراک کی تنظیم اور نگرانی کی ذمہ دار سرکاری باڈی ہے ۔ کی جانب سے ظاہر کی گئی سزاؤں میں خلاف ورزی کرنے والے کو 180 دن تک کسی بھی غذائی سرگرمی سے روکنا یا اس سرگرمی کے لائسنس کی منسوخی یا ایک سال سے زیادہ مدت کے لیے اسے معطل کرنا بھی شامل ہے۔

اتھارٹی نے تمام غذائی کارخانوں اور گوداموں کے لیے فوڈ سسٹم کے احکامات اور اس کے ایگزیکٹو ضوابط کی پابندی کرنے اور ضروری قانونی لائسنس حاصل کیے بغیر غذائی مواد تیار کرنے یا ذخیرہ کرنے کی سرگرمی نہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اتھارٹی نے حجاج کی خوراک اور دوا کی سلامتی میں سستی برتنے پر خبردار کیا ہے اور کہا کہ مناسک حج ادا کرنے والوں کی خوراک اور دوا کی سلامتی اولین ترجیح ہے۔ اتھارٹی نے کہا قوانین و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی شخص کے ساتھ نرمی نہیں برتی جائے گی۔ ۔

انتباہات کے تسلسل میں اتھارٹی نے لائسنس یافتہ تنصیب کی حدود سے باہر مصنوعات کو ذخیرہ نہ کرنے، تنصیبات کو بند کیے جانے کے بعد تمام قانونی تقاضے پورے کرنے اور اتھارٹی کی منظوری حاصل کرنے سے پہلے دوبارہ نہ کھولنے کی ضرورت پر زور دیا ۔ اتھارٹی نے قرار دیا ہے کہ فوڈ سسٹم کے احکامات کی پابندی تعمیل کی سطح بلند کرنے میں مدد دیتی ہے اور گردش میں موجود غذائی مصنوعات کی سلامتی کو بڑھانے کا کام کرتی ہے۔ اتھارٹی نے ساتھ ہی تمام تنصیبات کو متعلقہ قوانین و ہدایات پر عمل کرنے کی دعوت دی ہے اور معاشرے کے افراد سے کسی بھی مشاہدہ کی گئی خلاف ورزی کی اطلاع دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

یاد رہے حج سیزن کے دوران اتھارٹی کو سونپے گئے کاموں میں سرحدی راستوں پر نگرانی بھی شامل ہے جو حجاج کے ساتھ آنے والی یا جدہ اور مدینہ کے ایئرپورٹس، بندرگاہوں اور زمینی راستوں پر حج امور کے دفاتر کے ذریعے آنے والی غذائی، دوائی اور طبی کھیپوں کے معائنے اور جانچ پڑتال کے گرد گھومتی ہے۔

مشاعرِ مقدسہ میں خوراک کی سلامتی سے متعلق ہدایات لاگو کی جاتی ہیں۔ یہ ہدایات مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور مشاعرِ مقدسہ میں غذائی تنصیبات، کچنز اور کیٹرنگ کمپنیوں کے معائنے پر مبنی ہیں تاکہ ان کی صحت کے شرائط اور فراہم کردہ کھانوں کی سلامتی کے ساتھ مطابقت کو یقینی بنایا جا سکے۔ اسی وقت یہ خوراک کی تیاری اور ذخیرہ اندوزی پر سخت نگرانی نافذ کرتی ہے اور سرکاری لائسنس کے بغیر ایسا کرنے سے روکتی ہے۔

سعودی عرب حجاج کرام کو تمام اقسام کی خدمات فراہم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا۔ یہ سب ایک سرکاری یکجہتی کے فریم ورک کے تحت ہے جو ریاستی اداروں کے باہمی تعاون پر مبنی سالانہ منصوبوں کے مطابق چلتا ہے۔ حجاج کی جانب سے اپنے مناسک آسانی اور سہولت کے ساتھ ادا کرنے کے لیے سعودی عرب کی جانب سے کی جانے والی کوششوں میں ڈیجیٹل خدمات بھی شامل ہیں۔ یہ خدمات وقت کی بچت کرتی ہیں تاکہ حاجی الیکٹرانک طریقے سے مناسک کی ادائیگی کا اجازت نامہ جاری کر سکے۔ اندرونِ ملک کے حجاج ہوں یا بیرونِ ملک کے، سب ڈیجیٹل خدمات سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

سعودی عرب کی جانب سے پیش کی گئی خدمات میں رہائش، نقل و حمل اور قیام کے انتخاب کے امکان کے ساتھ ساتھ طبی دیکھ بھال بھی شامل ہے جو دنیا کی جدید ترین طبی ٹیکنالوجی سے لیس ہسپتالوں اور مراکز کے ذریعے فراہم کی جاتی ہے جس پر اہل سعودی عملہ کام کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ رہنمائی اور آگاہی بھی فراہم کی جاتی ہے جو آگاہی، صحت اور رہنمائی کے پروگراموں کے ذریعے انجام دی جاتی ہے ۔ ان خدمات کا مقصد حجاج کرام کے لیے مناسک کو آسان بنانا ہے۔

مملکت کے ’’ ویژن 2030 ‘‘ کے فریم ورک کے تحت سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے 2019 میں ضیوف الرحمن کی خدمت کے لیے ایک خاص پروگرام شروع کیا تھا تاکہ دنیا کے تمام حصوں سے آنے والے لاکھوں ضیوف الرحمن کی خدمت میں ایک نئی معیاری تبدیلی لانے میں مدد مل سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size