81 برس قبل اٹلی کا یومِ آزادی جس دن مسولینی کو الٹا لٹکا دیا گیا
جرمن فوج نے شمالی اٹلی پر قبضہ کر کے مسولینی کو کٹھ پتلی جمہوریہ کے سربراہ کے طور پر دوبارہ مسلط کر دیا تھا
سنہ 1922ء کے دوران فاشسٹ قوتیں روم کی جانب مارچ کے بعد اقتدار کے ایوانوں تک پہنچ گئیں۔ اس کے بعد آمر بینیٹو مسولینی نے ایک جماعتی نظام قائم کیا اور پروپیگنڈے نیز ایک فعال خفیہ پولیس کے نظام کی مدد سے پریس اور اظہار رائے کی آزادی کا گلا گھونٹنا شروع کر دیا۔ سنہ 1930ء کی دہائی میں اٹلی نے بین الاقوامی سطح پر جارحانہ رویہ اپنایا اور ایتھوپیا پر حملہ کر کے قبضہ کر لیا جس سے عالمی برادری میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ اس کے ردعمل میں اٹلی نے لیگ آف نیشنز سے علیحدگی اختیار کر لی اور سنہ 1939ء تک اس نے ایڈولف ہٹلر کے زیر اقتدار جرمنی کے ساتھ عسکری اتحاد قائم کر لیا۔
جنگ میں اطالوی شکستیں
فرانسیسی سرزمین پر جرمن حملے کے آغاز کے ساتھ اٹلی نے غیر جانبداری اختیار کرنے اور اس تنازع سے دور رہنے کو ترجیح دی۔ تاہم جرمنوں کی فوری فتح کے بعد مسولینی نے فرانس کے کچھ حصوں پر قبضہ کرنے کی امید میں اس کے خلاف مداخلت کو ترجیح دی۔ دس جون سنہ 1940ء کو مسولینی نے باضابطہ طور پر فرانس اور برطانیہ کے خلاف جنگ کا اعلان کیا اور اس طرح اس کا ملک باقاعدہ طور پر دوسری جنگ عظیم میں شامل ہو گیا۔
اس تنازعے کے دوران مسولینی نے رومی سلطنت کی شان دوبارہ بحال کرنے کی امید میں جرمنوں سے آزادانہ جنگ لڑنے کو ترجیح دی۔ اس دوران اطالوی فوج کوئی بھی کارنامہ انجام دینے میں ناکام رہی اور اسے یونان پر حملے اور شمالی افریقہ میں عسکری مہم کے دوران ایک سے زائد مواقع پر جرمنوں کی مدد لینا پڑی۔
سنہ 1943ء کے دوران اٹلی کو متعدد فوجی شکستوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے ساتھ ہی اتحادی افواج نے آپریشن ہسکی کے تحت سسلی میں کامیابی کے ساتھ قدم جمائے۔ شکست سے بچنے کی امید میں بینیٹو مسولینی کو ان کے رفقاء اور اطالوی بادشاہ وکٹر عمانویل سوم نے عہدے سے برطرف کر دیا۔ ستمبر سنہ 1943ء تک نئی اطالوی حکومت نے جنگ سے اٹلی کے انخلا کو یقینی بنانے کے لیے اتحادیوں کے ساتھ معاہدہ بندی کر لی۔
اٹلی میں جرمنوں کا انخلا
اس معاہدے کے بعد جرمن افواج نے اٹلی کے خلاف کارروائی کی اور شمالی اٹلی پر قبضہ کر کے مسولینی کو آزاد کرا لیا۔ اسی دوران انہوں نے شمال میں اطالوی سوشلسٹ جمہوریہ قائم کی جس کے نتیجے میں اٹلی میں خانہ جنگی پھوٹ پڑی اور فاشسٹوں کا مقابلہ اتحادیوں کی حمایت یافتہ اطالوی مزاحمتی تحریک سے ہوا جو ان کے انخلا کا مطالبہ کر رہی تھی۔
سنہ 1944ء سے سنہ 1945ء کے درمیان شمال میں مزاحمتی کارروائیاں تیز ہو گئیں جہاں ارکان نے تخریبی حملے کیے اور شہروں میں جرمن موجودگی کے خلاف بغاوتیں منظم کیں۔ اس دوران جرمنوں نے ان بغاوتوں کو دبانے کے لیے تشدد کا سہارا لیا۔ دوسری جانب اسی عرصے کے دوران اتحادیوں نے شمال کی جانب پیش قدمی کی اور کئی جرمن دفاعی لائنوں کو عبور کرنے میں کامیاب رہے۔
25 اپریل سنہ 1945ء یوم آزادی
اپریل سنہ 1945ء تک دوسری جنگ عظیم میں جرمنوں کی شکست یقینی ہو چکی تھی۔ اس ماہ کی 25 تاریخ کو شمالی اٹلی کی آزادی کے لیے قائم قومی کمیٹی نے ایک اپیل جاری کی جس میں تمام شہروں میں ہتھیار اٹھانے اور جرمن نیز فاشسٹ موجودگی کے خلاف بغاوت کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ ساتھ ہی عوامی سہولیات اور بنیادی ڈھانچے کے قریب پوزیشن سنبھالنے کی ہدایت کی گئی تاکہ تخریب کاری کو روکا جا سکے۔
اس دن شمالی اٹلی کے بڑے شہروں میں اطالوی مزاحمتی تحریک کی جانب سے بڑی نقل و حرکت دیکھی گئی۔ سب سے نمایاں کارروائی میلان میں ہوئی جہاں اطالوی مزاحمت کاروں نے سرکاری عمارتوں اور جرمن فوجیوں کا محاصرہ کر کے انہیں انخلا یا ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دیا۔ ٹورین میں فیکٹریوں اور ریلوے اسٹیشنوں کے قریب شدید جھڑپیں ہوئیں۔ اس دور میں مزدوروں نے نازی نظام کے خاتمے کے ساتھ ہی پیچھے ہٹنے والے جرمنوں کو نکالنے کے لیے مزاحمت میں شامل ہونے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی۔
27 اپریل سنہ 1945ء تک اطالوی آمر بینیٹو مسولینی اطالوی مزاحمت کے قبضے میں آ گئے۔ اگلے ہی دن انہیں ان کی محبوبہ کلارا پیٹاچی سمیت پھانسی دے دی گئی جس کے بعد ان کی لاش کو میلان کے ایک پیٹرول اسٹیشن پر الٹا لٹکا دیا گیا۔
-
جرمنی اور اٹلی کا نیٹو اتحاد کو برقرار رکھنے پر زور
جرمن حکومت کے ترجمان نے جمعہ کے روز کہا کہ سپین کی نیٹو کی رکنیت ناقابلِ سوال ...
بين الاقوامى -
ایران مراعات دے تو ہم پابندیوں میں نرمی کیلئے تیار ہیں: جرمنی
اب تک مذاکرات میں رکاوٹوں کے باوجود ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ نئے جلد باز ...
بين الاقوامى -
جرمنی ممکنہ ہرمز مشن کے لیے بحیرۂ روم میں بارودی سرنگیں ہٹانے والا جہاز تعینات کرے گا
وزیرِ دفاع بورس پسٹوریئس کے مطابق آبنائے ہرمز میں ممکنہ تعیناتی کی صورت میں جرمنی ...
بين الاقوامى