بھارت کی شورش زدہ شمال مشرقی ریاست منی پور میں جھڑپیں، تین افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

بھارت کی شورش زدہ شمال مشرقی ریاست منی پور میں حریف نسلی گروہوں کے درمیان ہتھیاروں کی لڑائیوں میں تین افراد ہلاک ہو گئے جو دور افتادہ علاقے میں بدامنی کا تازہ ترین واقعہ ہے، پولیس نے کہا۔

منی پور میں تقریباً تین سال سے اکثریتی ہندو میتی برادری اور زیادہ تر عیسائیوں پر مشتمل کوکی برادری کے درمیان وقفے وقفے سے جھڑپیں ہوتی رہی ہیں جن میں 250 سے زیادہ لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔

منی پور پولیس نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا، "زبردست فائرنگ کے تبادلے میں تین افراد گولی لگنے سے شدید زخمی ہو گئے۔"

یہ جھڑپیں اکھرول ضلع کے ملام گاؤں میں ہوئیں اور پولیس نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ آدمی کس برادری سے آئے تھے۔

پولیس نے کہا، "تشدد میں مزید اضافہ روکنے کے لیے علاقے میں حفاظتی انتظامات بڑھا دیے گئے ہیں۔ کارروائیاں بدستور جاری ہیں۔"

میتی اور کوکی برادریوں کے درمیان دیرینہ دشمنی کی وجہ زمین اور سرکاری ملازمتوں کے لیے مقابلہ ہے۔

انسانی حقوق کے کارکنان نے مقامی رہنماؤں پر سیاسی فائدے کے لیے نسلی تقسیم کو ہوا دینے کا الزام لگایا ہے۔

دو ہزار تیئس میں بدامنی پیدا ہوئی جب حکومتی اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 60,000 لوگ اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔

پریشانی کم ہو گئی تھی لیکن اس ماہ کے شروع میں کوکی گروپ کے حملے کے دوران دو بچوں سمیت چار افراد ہلاک ہو گئے تھے اور بعد میں میتیوں نے بڑی تعداد میں ایک نیم فوجی کیمپ پر حملہ کر دیا۔

جمعرات کو شمال مشرقی ریاستوں منی پور اور میزورام سے 249 بھارتی تل ابیب پہنچے۔ ان میں سے بنی مناشے برادری اسرائیل کے "گمشدہ قبائل" میں سے ایک سے تعلق کا دعویٰ کرتی ہے۔

نومبر میں اسرائیلی حکومت نے کمیونٹی کے تقریباً 6,000 افراد کی امیگریشن کے لیے فنڈ دینے کا فیصلہ کیا جس کے بعد اسرائیل آنے والا یہ پہلا گروپ تھا۔

بھارت میں انہوں نے 19ویں صدی کے مشنریوں کے ہاتھ پر عیسائیت قبولی کر لی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں