امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتہ کی شام واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کے عشائیے کے دوران فائرنگ کرنے والے مشتبہ شخص کی پہلی تصویر اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ''ٹروتھ سوشل'' پر جاری کی۔
ٹرمپ نے ایک ویڈیو بھی شیئر کی جس میں مشتبہ شخص کو بھاگتے ہوئے اور سیکیورٹی چیک پوائنٹ عبور کرنے کی کوشش کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب ''فوکس نیوز'' کے مطابق فائرنگ کے مشتبہ ملزم کا نام کول تھامس ایلن ہے، جو کیلیفورنیا کا رہائشی اور 31 سال کا ہے۔
حادثے کی تفصیلات
رائٹرز کے مطابق ہفتہ کی شام وائٹ ہاؤس کوریسپونڈنٹس ایسوسی ایشن کے عشائیے کے دوران تیز دھماکوں جیسی آوازیں سنائی دینے کے بعد خفیہ سروس کے اہلکار فوری طور پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی اہلیہ میلانیا کو تقریب سے باہر لے گئے۔
آواز سنتے ہی تقریب میں موجود افراد اچانک خاموش ہو گئے اور لوگ چیخنے لگے: ''لیٹ جاؤ، لیٹ جاؤ!''اس موقع پر سینکڑوں مہمان میزوں کے نیچے چھپ گئے جبکہ خفیہ سروس کے اہلکار حفاظتی لباس میں تیزی سے ہال میں داخل ہوئے۔
ٹرمپ اور میلانیا نے اسٹیج کے پیچھے پناہ لی، تاہم سیکیورٹی اہلکار انہیں فوری طور پر وہاں سے باہر لے گئے۔
تقریب میں موجود تقریباً 2600 افراد میں سے کئی افراد چھپ گئے جبکہ ویٹرز ہال کے سامنے والے حصے کی طرف بھاگ گئے۔
بعد ازاں امریکی خفیہ سروس نے ایک بیان میں کہا کہ صدر اور خاتونِ اول مکمل طور پر محفوظ ہیں۔
إعلام أميركي:
— العربية (@AlArabiya) April 26, 2026
- مطلق النار يدعى "كول توماس ألين" من كاليفورنيا ويبلغ من العمر 31
- مطلق النار كان يعمل مدرسا ومطورا لألعاب الفيديو
- مطلق النار تبرع لحملة كامالا هاريس الرئاسية pic.twitter.com/BQSFJArmHh
بیان کے مطابق صدر اور خاتونِ اول سمیت تمام زیرِ حفاظت شخصیات محفوظ ہیں، ایک شخص کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ ادارے نے مزید بتایا کہ واقعہ تقریب کے مرکزی سیکیورٹی چیک پوائنٹ کے قریب پیش آیا۔