حیفا پہنچنے والی روسی اناج کی کشتی کے معاملے پر اسرائیل سے رابطہ کیا ہے: یورپی یونین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

یورپی یونین کے ترجمان خارجہ امور نے منگل کے روز کہا ہے کہ یورپی یونین نے ایک روسی جہاز کے حوالے سے اسرائیل سے رابطہ کیا ہے جسے اسرائیلی بندرگاہ حیفا میں کنارے پر لگنے کی اجازت دی گئی ہے اور جو بقول یوکرین اس کا چوری شدہ اناج لے جا رہا تھا۔

وزیرِ خارجہ یوکرین اندری سیبیہا نے کہا کہ اسرائیل کے سفیر کو اس معاملے پر طلب کیا گیا جسے انہوں نے اسرائیل کی بے عملی قرار دیا کہ روس کے زیرِ قبضہ یوکرین سے اناج کی کھیپ کو ملک میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی۔

اس صورتِ حال پر تبصرہ کرنے کی درخواست کے جواب میں یورپی یونین کے ترجمان انوار الانونی نے کہا، "ہم ان تمام اقدامات کی مذمت کرتے ہیں جو روس کی غیر قانونی جنگ کی اعانت کرنے اور یورپی یونین کی پابندیوں سے بچ نکلنے میں مدد کریں اور اگر ضروری ہو تو تیسرے ممالک میں افراد اور اداروں کو فہرست میں شامل کر کے ایسے اقدامات کو نشانہ بنانے کے لیے تیار ہیں۔"

انہوں نے کہا، "ہم نے اس معاملے پر اسرائیلی وزارتِ خارجہ سے رابطہ کیا ہے۔"

وہ چار خطے جن پر روس نے 2022 میں یوکرین پر حملہ کرنے کے بعد سے ملکیت کا دعویٰ کیا ہے اور کریمیا جس کا روس نے 2014 میں الحاق کر لیا تھا، کئیف ان خطوں میں پیدا ہونے والے تمام اناج کے بارے میں یہ سمجھتا ہے کہ یہ ماسکو نے چوری کیا ہے۔

یہ اناج دوسرے ممالک کو برآمد کرنے پر یوکرین پہلے بھی احتجاج کر چکا ہے۔

روس ان خطوں کو اپنے "نئے علاقے" کہتا ہے لیکن وہ بین الاقوامی سطح پر ہنوز یوکرینی علاقے سمجھے جاتے ہیں۔ ماسکو نے یہاں سے حاصل کردہ اناج کی قانونی حیثیت پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں