ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کی کوشش... دھوکے سے قتل ہونے والے 4 امریکی صدور کی یاد تازہ
ہفتہ 25 اپریل 2026 کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کی کوشش نے امریکی سیاسی تاریخ کے ایک حساس ترین باب یعنی صدور کو تشدد کا نشانہ بنانے کے عمل کو دوبارہ نمایاں کر دیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کر کے اس پر الزامات عائد کر دیے گئے ہیں۔ اس واقعے نے بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی اور اس کے براہ راست تشدد میں بدل جانے کے خطرات پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ سکیورٹی اداروں کی ترقی کے باوجود، امریکہ میں اب تک چار صدور کے کامیاب قتل کے واقعات ہو چکے ہیں، جو ملک کی تاریخ میں اہم موڑ ثابت ہوئے۔
لنکن ...۔ خانہ جنگی کے اختتام پر قتل
ابراہم لنکن پہلے امریکی صدر تھے جنھیں 14 اپریل 1865 کو واشنگٹن کے "فورڈ" تھیٹر میں اداکار جان ولکس بوتھ نے گولی مار کر ہلاک کیا۔ ان کا قتل خانہ جنگی کے خاتمے کے چند ہی دن بعد اس وقت ہوا جب ملک دوبارہ تعمیرِ نو کی تیاری کر رہا تھا۔ اگرچہ انہوں نے یونین کو فتح دلائی اور غلامی کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا، لیکن ان کی موت نے گہرا صدمہ پہنچایا اور ملک کو اضطراب کے ایک نئے مرحلے میں دھکیل دیا۔
گارفیلڈ ... سست رفتار موت
سن 1881 میں صدر جیمز گارفیلڈ کو دارالحکومت واشنگٹن کے ایک ریلوے اسٹیشن پر چارلس گیٹو نے گولی ماری۔ وہ فوری طور پر ہلاک نہیں ہوئے تھے، لیکن طبی پیچیدگیوں اور زخم کے علاج میں لاپروائی کے باعث وہ تقریباً دو ماہ بعد انتقال کر گئے۔ اس واقعے نے اس دور کے کمزور نظامِ صحت کو بے نقاب کیا اور زخموں کے علاج کے معیارات پر وسیع بحث چھیڑی، جبکہ سیاسی طور پر اس نے اندرونی کشمکش کے مرحلے میں گہرے اثرات مرتب کیے۔
میک کنلے ... قتل جس نے اقتدار کا رخ بدل دیا
سال 1901 میں صدر ولیم میک کنلے کو بفلو شہر میں ایک عوامی نمائش کے دوران ایک انتہا پسند نے قریب سے گولی مار کر قتل کر دیا۔ ان کے قتل کے نتیجے میں نائب صدر تھیوڈور روزویلٹ برسرِ اقتدار آئے، جو امریکی پالیسیوں میں ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوئے۔ خاص طور پر جب روزویلٹ نے اندرون اور بیرون ملک زیادہ سخت گیر رویہ اپنایا۔
کینیڈی ... وہ واقعہ جس نے دنیا کو ہلا دیا
سال تھا 1963 اور دن تھا 22 نومبر کا... ریاست ٹیکساس کے شہر ڈلاس میں ایک سرکاری جلوس کے دوران صدر جان ایف کینیڈی کو قتل کر دیا گیا، جو جدید تاریخ کے متنازع ترین قتل کے واقعات میں سے ایک ہے۔ اگرچہ لی ہاروی اوزوالڈ کو قاتل قرار دیا گیا، لیکن اس واقعے کے پیچیدہ حالات اور سرد جنگ کے دوران اس کے بڑے سیاسی اثرات کی وجہ سے یہ آج بھی بحث اور مختلف نظریات کا مرکز ہے۔
ناکام کوششیں اور مسلسل خطرہ
صدور کو نشانہ بنانے کی کوششیں ان واقعات پر ختم نہیں ہوئیں، بلکہ امریکہ میں کئی ناکام کوششیں بھی ہوئیں، جن میں 1981 میں صدر رونالڈ ریگن پر حملہ نمایاں ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ پر حالیہ قاتلانہ حملہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ سیاسی تقسیم اور عوامی لہجے کی تلخی کے باعث یہ خطرہ اب بھی موجود ہے۔ مبصرین کے مطابق، امریکہ میں سیاسی قتل کے واقعات اکثر اندرونی تناؤ یا بڑی تبدیلیوں کے ادوار سے وابستہ رہے ہیں۔ اسلحے کی دستیابی اور سیاسی طور پر چارج شدہ ماحول اس سکیورٹی منظر نامے کو مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں ... چنانچہ یہ سوال ہنوز برقرار ہے : کیا اس خطرے کو کم کرنا ممکن ہے، یا یہ امریکی سیاسی منظرنامے کا ایک حصہ بنا رہے گا؟
-
مذاکرات میں تعطل کے باوجود پاکستان کی امریکہ اور ایران کو قریب لانے کی کوششیں
عراقچی روس کے دورہ پر ہیں، ٹرمپ نے کہا وہ بات کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں فون کرسکتے ...
مشرق وسطی -
امریکہ اب اس قابل نہیں رہا کہ آزاد ریاستوں پر اپنی پالیسیاں مسلط کرے : تہران
ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکراتی عمل پر نظر رکھنے والے حلقوں میں اس وقت بے ...
مشرق وسطی -
جنگ نہ معاہدہ، امریکہ ایران کے ساتھ سرد جنگ کے خدشات سے دوچار
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے ...
مشرق وسطی