جنگ نہ معاہدہ، امریکہ ایران کے ساتھ سرد جنگ کے خدشات سے دوچار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے جو سرد جنگ سے مشابہہ ہے، جس کی بنیاد مالی پابندیوں اور سمندری طاقت کے زور پر مداخلت پر استوار ہے۔ ان حالات میں یہ توقعات ظاہر کی جا رہی ہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تہران کی جانب سے پاکستانی ثالثی کے ذریعے بھیجی گئی حالیہ تجویز کو مسترد کر دیں گے۔

امریکی حکام کی تشویش

نیوزویب سائٹ ایکسیس کی رپورٹ کے مطابق متعدد امریکی حکام نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ امریکہ ایک ایسے منجمد تنازع کا شکار ہو سکتا ہے جہاں نہ تو مکمل جنگ ہوگی اور نہ ہی کوئی باقاعدہ معاہدہ ہو پائے گا۔

پہلے کون پکارے گا

حکام نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی ہے کہ اگر اس قسم کا تعطل پیدا ہوا تو خطے میں امریکی افواج کی تعیناتی میں مزید کئی ماہ کا اضافہ کرنا پڑے گا۔ ایسی صورتحال میں آبنائے ہرمز بند رہے گی اور ایرانی بندرگاہوں پر امریکی محاصرہ جاری رہے گا، جبکہ دونوں فریق اس انتظار میں رہیں گے کہ پہلے کون ہار مانتا ہے یا مدد کے لیے پکارتا ہے۔

اس تناظر میں امریکی صدر کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ منجمد تنازع یا سرد جنگ ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے سیاسی اور اقتصادی طور پر بدترین منظرنامہ ثابت ہو سکتا ہے، خاص طور پر جب نومبر میں ہونے والے مڈ ٹرم انتخابات میں صرف 6 ماہ کا عرصہ باقی رہ گیا ہے۔

ٹرمپ کی تذبذب کا شکار پالیسی

ڈونلڈ ٹرمپ سے مشاورت کرنے والے 5 مشیروں کے مطابق صدر کا فیصلہ اس وقت دو راہے پر ہے کہ آیا نئے فوجی حملے کیے جائیں یا پھر انتظار کیا جائے کہ ان کی جانب سے لگائی گئی مالی و اقتصادی پابندیاں اور زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی تہران کو جوہری پروگرام ختم کرنے کے لیے مذاکرات کی میز پر لانے میں کس حد تک کامیاب ہوتی ہے۔

صدر کا سخت موقف

ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں اپنے ایک مشیر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی قائدین صرف بموں کی زبان سمجھتے ہیں۔ مشیر کے مطابق ٹرمپ تہران کے رویے سے کسی حد تک مایوس ضرور ہیں مگر وہ حقیقت پسند ہیں، وہ طاقت کا استعمال نہیں چاہتے لیکن اپنے موقف سے پیچھے بھی نہیں ہٹیں گے۔

دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ کے بعض سینیئر مشیروں کا اصرار ہے کہ فی الحال امریکی محاصرہ برقرار رکھا جائے اور ایرانی حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے مزید اقتصادی پابندیاں عائد کی جائیں اور بمباری کے آپشن کو آخری حربے کے طور پر رکھا جائے۔

پابندیوں کا غیر معمولی دباؤ

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو جو ڈونلڈ ٹرمپ کے قومی سلامتی کے مشیر بھی ہیں، نے گذشتہ پیر کی شام فوکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ تہران پر پابندیوں کی سطح غیر معمولی ہے اور دباؤ انتہائی شدید ہے، انہوں نے مزید کہا کہ اس دباؤ میں مزید اضافہ بھی ممکن ہے۔

واضح رہے کہ ریپبلکن صدر نے گذشتہ روز اپنی قومی سلامتی کی ٹیم کے ساتھ ایرانی تجویز پر تبادلہ خیال کیا تھا۔ تاہم ایک امریکی اہلکار اور اجلاس کی تفصیلات رکھنے والے دو دیگر ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ فی الحال اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اس تجویز کو مسترد کر دیں گے، کیونکہ ایرانی تجویز میں تین مراحل کا ذکر کیا گیا ہے جس میں پہلا مرحلہ جنگ بندی، دوسرا آبنائے ہرمز کو کھولنا اور امریکی محاصرہ ختم کرنا ہے، جبکہ جوہری فائل پر مذاکرات کو سب سے آخر میں رکھا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں