جاپانی شائقین نے اس وقت دنیا کی توجہ حاصل کی ،جب 1998 میں فرانس میں ہونے والے اپنے پہلے ورلڈ کپ میں انہوں نے میچوں کے بعد اسٹیڈیم کی نشستیں اور مدارج خود صاف کیے۔
یہ طرزِ عمل ہر چار سال بعد جاری رہا اور حالیہ ورلڈ کپ 2022 (قطر) میں بھی جاپانی شائقین نے اسی روایت کو برقرار رکھا۔
توقع ہے کہ 2026 کے ورلڈ کپ میں بھی یہ سلسلہ جاری رہے گا، جہاں جاپان کی ٹیم کے میچز امریکی شہر آرلنگٹن، ٹیکساس اور میکسیکو کے شہر مونٹیری میں ہوں گے۔
جاپانی شائقین کا یہ عمل دیگر قومیتوں کے لیے حیرت کا باعث بنتا ہے، کیونکہ عام طور پر دوسرے ممالک کے تماشائی میچ کے بعد کھانے پینے کی باقیات، کاغذات اور پلاسٹک کے کپ وہیں چھوڑ دیتے ہیں۔
روس ورلڈ کپ 2018 میں بھی جاپانی کھلاڑیوں نے ٹورنامنٹ سے باہر ہونے کے بعد ڈریسنگ روم خود صاف کیا اور روسی زبان میں شکریہ کا پیغام چھوڑا۔
اسی طرح قطر ورلڈ کپ 2022 میں جاپانی شائقین نے کوڑے کے تھیلوں پر تین زبانوں عربی، انگریزی اور جاپانی میں شکریہ کے پیغامات لکھ کر چھوڑے۔
یہ عادت جاپانی شائقین کے لیے کوئی غیر معمولی بات نہیں سمجھی جاتی، کیونکہ وہ بچپن ہی سے اسی طرزِ عمل کے عادی ہوتے ہیں۔
اس حوالے سے صوفیہ یونیورسٹی کے سیاسیات اور تاریخ کے پروفیسر کوئچی ناکانو نے ایسوسی ایٹڈ پریس سے گفتگو میں کہا کہ جاپانی شائقین جو عالمی ٹورنامنٹس میں اسٹیڈیم صاف کرتے ہیں، وہ دراصل اسی تربیت اور عادت کے مطابق عمل کرتے ہیں، جو انہیں بچپن سے سکھائی گئی ہوتی ہے۔
اس تصور کو واضح کرنے کے لیے ایک جاپانی کہاوت بھی مشہور ہے:''تاتسو توری آتو وو نیگوسازو ''جس کا لفظی مطلب ہے ''پرندہ اپنے پیچھے کوئی نشان نہیں چھوڑتا'' ۔انگریزی میں اس کا مفہوم ہے: ''جہاں سے آئے ہو، سب کچھ ویسا ہی چھوڑو جیسا پایا تھا ''۔
جاپان میں کئی پرائمری اسکولوں میں باقاعدہ صفائی کے لیے الگ عملہ نہیں ہوتا، بلکہ صفائی کا کام خود طلبہ انجام دیتے ہیں۔
اسی طرح دفاتر میں بھی ملازمین اپنے کام کی جگہ خود صاف کرتے ہیں۔عوامی مقامات پر کوڑے دانوں کی تعداد بھی نسبتاً کم ہوتی ہے، جس کی وجہ سے لوگ اپنا کچرا خود گھر واپس لے جاتے ہیں۔
اس سے نہ صرف سڑکیں صاف رہتی ہیں بلکہ صفائی کے اخراجات اور کیڑوں مکوڑوں کے پھیلاؤ میں بھی کمی آتی ہے۔
جرمنی میں پیدا ہونے والی سماجی ماہر باربرا ہولتھوس، جو ٹوکیو میں جرمن انسٹی ٹیوٹ فار جاپانی اسٹڈیز کی نائب سربراہ ہیں، کہتی ہیں کہ جاپانی معاشرے کے رویے کو حد سے زیادہ مثالی بنا کر پیش نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ ہر ملک کی طرح یہاں بھی مسائل موجود ہیں۔
ان کے مطابق سائنسی اور سماجی طور پر درست وضاحت یہ ہے کہ لوگ جس ماحول اور عادتوں میں پرورش پاتے ہیں، وہی ان کی زندگی کا حصہ بن جاتی ہیں، یہی عادتیں وہ ہر جگہ، حتیٰ کہ اسٹیڈیم کی صفائی میں بھی برقرار رکھتے ہیں۔
یہ رویہ جاپانی تصور '' میواکو '' سے بھی جڑا ہوا ہے، جس کا مطلب ہے دوسروں کو تکلیف یا پریشانی سے بچانا۔
اسی سوچ کے تحت جاپانی معاشرے میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ سڑکوں یا عوامی مقامات پر کچرا پھیلانا دوسروں کے لیے ناگواری اور مسئلہ پیدا کرتا ہے۔
جاپان ایک انتہائی گنجان آباد ملک ہے، جہاں صرف دارالحکومت ٹوکیو کی آبادی تقریباً 35 ملین کے قریب ہے، جو امریکی ریاست کیلیفورنیا کی مجموعی آبادی کے برابر سمجھی جاتی ہے۔
جاپانی شائقین یہ رویہ صرف بڑے ٹورنامنٹس تک محدود نہیں رکھتے بلکہ دیگر مقابلوں میں بھی اس کی مثالیں ملتی ہیں۔
انہوں نے 2025 میں چلی میں ہونے والے انڈر 20 ورلڈ کپ کے دوران بھی یہی روایت برقرار رکھی۔
اسی طرح مارچ میں ویمبلے اسٹیڈیم میں انگلینڈ کے خلاف دوستانہ میچ میں جاپان کی ایک صفر سے فتح کے بعد بھی شائقین نے اسٹیڈیم کو صاف کر کے اپنے مخصوص طرزِ عمل کا مظاہرہ کیا۔