ایران پر یورپی مؤقف سخت، معاہدہ صرف نیوکلیئر اور میزائل حدود پر ممکن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

پاکستان کی جانب سے ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے مفاہمت پیدا کرنے کی کوششیں جاری ہیں، اسی دوران یورپی کمیشن کی صدر ارسولا فون ڈیر لیئن نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی امن معاہدے میں ایران کے جوہری پروگرام اور بیلسٹک میزائلوں کے معاملے کو شامل کرنا ضروری ہوگا۔

یورپی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یورپی یونین اس جنگ کے مستقل خاتمے کی خواہش رکھتی ہے، تاہم ان کے مطابق بحران کا حل آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی آزادی کی بحالی سے جڑا ہوا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے اثرات یورپ کی معاشی سلامتی کو متاثر کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی جنگ یورپ سے دور نہیں بلکہ براہِ راست یورپی شہریوں کی زندگی اور سلامتی پر اثر انداز ہو رہی ہے۔

فون ڈیر لیئن نے مزید بتایا کہ جنگ کے باعث یورپ کو توانائی کی درآمدات پر اضافی 27 ارب یورو کے اخراجات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

جنگ بندی

اس کے ساتھ ہی انہوں نے زور دیا کہ ایران اور لبنان میں جنگ بندی کو سفارتی کوششوں کے ذریعے برقرار رکھا جانا چاہیے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ خلیجی عرب ممالک کے ساتھ تعاون اس بحران پر قابو پانے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں، جب ایران اور امریکا کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں جاری مذاکرات میں یورپی ممالک براہِ راست شریک نہیں ہیں۔

تاہم یورپی حکام نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ ایسا معاہدہ کر سکتے ہیں، جس کے طویل مدتی منفی اثرات مرتب ہوں۔

یورپی عہدیدار پہلے بھی اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں ایران کا جوہری پروگرام اور بیلسٹک میزائلوں کا مسئلہ شامل ہونا چاہیے، تاکہ مستقبل میں نئے بحران پیدا نہ ہوں، جیسا کہ رائٹرز نے رپورٹ کیا۔

یاد رہے کہ اپریل 2026 کے آغاز میں اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا پہلا دور ہوا تھا، تاہم وہ کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکا۔

اسی دوران ٹرمپ نے اپنے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور داماد جارڈ کشنر کو اسلام آباد جانے سے روک دیا تھا، جہاں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کا امکان تھا، جو مبینہ طور پر ایک نیا ایرانی حل پیش کرنے آئے تھے۔ تاہم امریکی ذرائع کے مطابق یہ تجویز صدر ٹرمپ کے لیے قابلِ قبول نہیں تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں