امریکی فوج کا دعویٰ: ایران پر پابندیاں انتہائی مؤثر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایران پر عائد امریکی بحری محاصرے کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ امریکی فوج کے مطابق یہ محاصرہ ''انتہائی مؤثر'' ثابت ہو رہا ہے، جس کے باعث ایرانی بندرگاہوں پر تجارتی سرگرمیوں میں نمایاں کمی آئی ہے۔

امریکی فوج نے اپنے ایک سرکاری بیان میں کہا کہ اس کی افواج سمندری راستوں سے سامان کی ترسیل روکنے کے لیے بھرپور کارروائیاں کر رہی ہیں، ان اقدامات کے باعث ایرانی حکومت کو 6 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

بیان کے مطابق اس محاصرے نے ایران کی تیل برآمدات کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ اس وقت 41 آئل ٹینکرز، جن میں تقریباً 69 ملین بیرل تیل موجود ہے، عالمی منڈیوں تک پہنچنے سے قاصر ہیں۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ ایران پر بحری محاصرہ اس وقت تک جاری رکھا جائے گا، جب تک تہران ایسا معاہدہ قبول نہیں کرتا جو امریکا کے جوہری پروگرام سے متعلق خدشات کو دور کرے۔



''اکسیوس ''ویب سائٹ کو دیے گئے ایک ٹیلیفونک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ وہ اس محاصرے کو بمباری سے زیادہ مؤثر سمجھتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا،وہ گھٹ رہے ہیں اور ان کے لیے حالات مزید خراب ہوں گے۔ انہوں نے ایک بار پھر زور دیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

دھماکے کے قریب

مزید انہوں نے کہا کہ ایران اس محاصرے کے خاتمے کے لیے معاہدہ کرنا چاہتا ہے، مزید کہا: وہ معاملات طے کرنا چاہتے ہیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ میں محاصرہ برقرار رکھوں، جبکہ میں اسے اٹھانا نہیں چاہتا کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کریں۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایرانی تیل کے ذخائر اور پائپ لائنیں ''دھماکے کے قریب'' ہیں، کیونکہ ایران محاصرے کے باعث اپنا تیل برآمد نہیں کر پا رہا۔

مکمل بحری محاصرہ

یاد رہے کہ امریکی صدر نے 13 اپریل کو ایران پر مکمل بحری محاصرہ عائد کیا تھا، یہ اقدام اس وقت اٹھایا گیا ،جب اسلام آباد میں ہونے والے امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا پہلا دور کسی معاہدے کے بغیر ختم ہو گیا تھا۔

یہ مذاکرات 28 فروری کو شروع ہونے والی کشیدگی اور جنگی صورتحال کو ختم کرنے کے لیے کیے گئے تھے۔گزشتہ دنوں کے دوران امریکی انتظامیہ مسلسل اس بات پر زور دیتی رہی ہے کہ یہ محاصرہ اس وقت تک برقرار رہے گا جب تک آبنائے ہرمز کھولی نہیں جاتی اور ایسا معاہدہ طے نہیں پا جاتا جو اس کے مطالبات کو پورا کرے۔

دوسری جانب تہران نے اپنا مؤقف دہراتے ہوئے کہا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کے معاملے پر بات چیت سے قبل بحری محاصرہ ختم کیے جانے کا مطالبہ کرتا ہے۔

یاد رہے کہ 28 فروری کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی اور ایرانی دھمکیوں کے باعث آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی سرگرمیاں شدید متاثر ہو چکی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں