1940 میں جب ہٹلر نے فرانس پر قبضہ کر لیا اور اٹلی کے ہاتھ کچھ نہ آیا

مسولینی فرانس کے خلاف اپنی جنگ کے آغاز میں طے کردہ مقاصد میں سے کچھ بھی حاصل نہ کر سکے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

ہٹلر نے پولینڈ کو سوویت یونین کے ساتھ بانٹ لیا تھا۔ پولینڈ کے خلاف فوجی مہم سے فارغ ہونے کے بعد ہتلر نے اپنی نظریں مغرب کی طرف موڑ دیں تاکہ فرانس اور برطانیہ کے خلاف فوجی مہم جوئی کر کے انہیں جنگ ختم کرنے پر مجبور کر سکے۔ مغرب میں کسی معاہدے تک پہنچنے میں ناکامی پرجرمنوں نے اپنی افواج کی ایک بڑی تعداد فرانسیسی سرحد کی طرف منتقل کر دی اور میجینو دفاعی لائن کو نظر انداز کرتے ہوئے آرڈین کے گھنے جنگلات سے گزر کر فرانسیسیوں کو دھوکہ دے دیا۔ آرڈین کے جنگلات کو فرانسیسیوں نے پہلے قدرتی دفاع قرار دیا تھا۔ اس جنگ کے دوران فرانسیسی جرمنوں کے سامنے زیادہ دیر نہ ٹک سکے کیونکہ یہ فوجی مہم 10 مئی 1940 کو شروع ہوئی اور تقریباً 45 دنوں بعد فرانس کے ہتھیار ڈالنے پر ختم ہوگئی۔ اس فوجی کارروائی کے دوران ڈکٹیٹر بینیٹو مسولینی کے احکامات پر اطالوی افواج نے فرانسیسیوں کے خلاف مداخلت کردی تھی۔

جنگ میں اٹلی کی شمولیت

ابتدائی طور پر بینیٹو مسولینی اپنے اتحادی ایڈولف ہتلر کے ساتھ دوسری جنگ عظیم میں شامل ہونے میں ہچکچاہٹ کا شکار تھے۔ جرمنی کے مقابلے میں مسولینی کو یقین تھا کہ ان کی فوج پیچھے ہے اور ان کے پاس جنگ میں شامل ہونے کے لیے کافی وسائل اور صنعتی صلاحیتیں نہیں ہیں۔ لیکن پولینڈ کی مہم کے خاتمے اور فرانس کے ہتھیار ڈالنے اور جرمن فوج کی تیز رفتار پیش قدمی کے سامنے اس کی پسپائی کو دیکھ کر اطالوی ڈکٹیٹر نے کچھ جغرافیائی مفادات کے حصول کی امید میں اپنے ملک کو جنگ میں جھونکنے کو ترجیح دے دی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق مسولینی نائس، ساووا، جزیرہ کورسیکا اور تیونس کی فرانسیسی نوآبادیات کو اطالوی مقبوضہ علاقوں میں شامل کرنے کے عزائم رکھتے تھے۔ 10 جون 1940 کو بینیٹو مسولینی نے روم میں پالازو وینیزیا کی بالکونی سے باقاعدہ طور پر فرانس اور برطانیہ کے خلاف جنگ کا اعلان کیا۔ اس اعلان سے اس تنازع میں اٹلی کی شمولیت کی تصدیق ہو گئی۔

بھاری جانی نقصان، محدود پیش قدمی

اپنے اتحادی جرمنی سے آزادانہ فوجی مہم کے تحت اطالوی فوج ، جو اس تنازع کے لیے تیار نہیں تھی، نے الپس کے پہاڑوں پر فرانسیسیوں پر حملہ شروع کر دیا۔ اطالوی ان مقامات پر لڑائی کے لیے تیار نہیں تھے کیونکہ ان کے پاس کافی لاجسٹک مدد کی کمی تھی اور انہیں مشکل گزار راستوں کا سامنا کرنا پڑا۔ دوسری طرف فرانسیسیوں کو میجینو دفاعی لائن کی بدولت نمایاں برتری حاصل تھی جو اس علاقے تک پھیلی ہوئی تھی۔ اطالویوں کے پاس اس قسم کی پہاڑی لڑائی کے لیے موزوں ٹینکوں اور توپ خانے کی بھی کمی تھی۔ سپاہی حملے شروع کرنے میں فوجی قیادت کی ہچکچاہٹ کا شکار رہے۔ بھاری جانی نقصان کے بدلے اطالوی صرف چند کلومیٹر ہی آگے بڑھ سکے۔ ان کی سب سے اہم کامیابی سرحدی شہر مینٹن میں داخلہ تھا۔ کئی دنوں تک جاری رہنے والی لڑائیوں کے دوران اطالویوں کے 6 ہزار سے زائد فوجی ہلاک، زخمی اور قیدی ہوئے۔

اطالوی مایوسی

21 جون 1940 تک مسولینی نے الپس کے پار ایک جامع حملے کا حکم دیا کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ فرانس جرمنوں کے سامنے ہتھیار ڈال دے گا اور لڑائی ختم ہو جائے گی۔ اسی دوران فرانسیسی اطالوی حملے کو روکنے میں کامیاب رہے۔ یہ اطالوی حملہ بے سود رہا۔ 22 جون 1940 کو جرمنوں نے فرانس کے ساتھ جنگ بندی کا معاہدہ کیا جو تین دن بعد نافذ العمل ہوا۔ اسی دوران ایڈولف ہتلر نے اٹلی اور فرانس کے درمیان لڑائی ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا۔ جہاں مسولینی نے اس کی مخالفت کی، وہیں کئی سینئر فرانسیسی حکام نے اٹلی کے ساتھ جنگ بندی کے خیال کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اٹلی نے ان کے ملک کے خلاف کوئی کامیابی حاصل نہیں کی ہے۔

جرمنی کے دباؤ پر اٹلی اور فرانس نے اسی مہینے کی 24 تاریخ کو "ولا انسیزا" جنگ بندی پر دستخط کیے۔ اس جنگ بندی کے ذریعے ایڈولف ہٹلر نے فرانس کو ذلیل نہ کرنے کی کوشش کی۔ اس کے نتیجے میں اٹلی کو گاؤں مینٹن کے قریب چھوٹے سرحدی علاقے اور الپس کے کچھ سٹریٹجک مقامات مل گئےاور جنگ بندی نے اطالوی سرحد کے قریب فرانسیسی جانب ایک غیر فوجی علاقہ بھی بنا دیا۔

فرانس نے تیونس اور لیبیا کی اپنی نوآبادیات کے درمیان ایک غیر فوجی سرحدی علاقہ بنانے پر اتفاق کیا۔ اس کے باوجود یہ شرائط مسولینی کے لیے مایوسی کا باعث بنیں جنہوں نے فرانس کے خلاف اپنے مقاصد میں سے کچھ بھی حاصل نہیں کیا تھا۔ اس وجہ سے فاشسٹ پارٹی کے ارکان میں ان کی پالیسی کے خلاف غم و غصہ بڑھ گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں