ترکیہ میں افسوس ناک واقعہ... ریستوران نے ماں اور بچی کو اندر بیٹھ کر کھانے سے روک دیا

ملازمین نے کھانا تیار کر کے اسے باہر لے جانے والے مخصوص بیگز میں پیک کیا، پھر ماں کے حوالے کر کے انہیں وہاں سے جانے کو کہہ دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

ترکیہ کے ایک ریستوران میں پیش آنے والے ایک "افسوس ناک" واقعے نے بڑے پیمانے پر غم و غصے اور ناراضگی کی لہر دوڑا دی ہے۔ یہ واقعہ اس وقت منظرِ عام پر آیا جب ریستوران انتظامیہ نے ایک ماں اور اس کی چھوٹی بیٹی کو ہال کے اندر بیٹھ کر کھانا کھانے سے روک دیا، حالانکہ ان کے لیے کھانا خریدا جا چکا تھا اور اس کی مکمل قیمت بھی ادا کر دی گئی تھی۔

ترک میڈیا کے مطابق اس کہانی کا آغاز اس وقت ہوا جب ایک گاہک نے انسانی ہمدردی کے طور پر ایک ضرورت مند ماں اور بچی کے لیے کھانے کا آرڈر دیا تاکہ وہ بھی دیگر گاہکوں کی طرح ریستوران کے اندر بیٹھ کر کھانا کھا سکیں۔ تاہم وہاں موجود لوگوں کو اس وقت شدید جھٹکا لگا جب ریستوران کے عملے نے ماں اور بیٹی کو اندر بیٹھنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔

گردش کرنے والی معلومات کے مطابق ملازمین نے کھانا تیار کر کے اسے "ٹیک اوے" (باہر لے جانے والے) بیگز میں پیک کیا اور ماں کے حوالے کرتے ہوئے انہیں وہاں سے جانے کو کہا۔ عملے کا اصرار تھا کہ وہ صرف باہر جا کر ہی یہ کھانا کھا سکتی ہیں، انہیں یا ان کی بچی کو دیگر گاہکوں کی طرح ہال میں بیٹھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

اس رویے پر وہاں موجود کئی گاہکوں نے حیرت کا اظہار کیا، خاص طور پر جب انہوں نے دیکھا کہ ماں اور بیٹی کو دیا جانے والا آرڈر دیگر آرڈرز کے مقابلے میں مختلف انداز میں پیش کیا گیا۔ ایک گاہک نے اس پر سوال اٹھایا کہ ان کے ساتھ ایسا سلوک کیوں کیا جا رہا ہے اور کھانے کی ادائیگی ہونے کے باوجود انہیں اندر بیٹھنے سے کیوں روکا جا رہا ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق عملے کا جواب واضح اور حیران کن تھا۔ انہوں نے گاہک کو بتایا کہ ماں اور بچی رییستوران کے اندر کھانا نہیں کھا سکتیں اور انہیں اپنا آرڈر لے کر باہر جانا ہو گا۔ اس جواب نے وہاں تناؤ کی صورت حال پیدا کر دی اور کئی حاضرین نے اسے توہین آمیز اور بلا جواز امتیازی سلوک قرار دیتے ہوئے اس پر احتجاج کیا۔

یہ تنازع اس وقت مزید بڑھ گیا جب برانچ مینجر نے مداخلت کی اور اس صورت حال کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ریستوران کے "اپنے قواعد" ہیں۔ ترک پریس کے مطابق مینجر نے مزید کہا کہ انتظامیہ "سڑک سے آنے والے ہر شخص" کو اندر داخل ہونے اور ہال میں بیٹھنے کی اجازت نہیں دے سکتی۔ اس جواز نے لوگوں کو مزید صدمے میں ڈال دیا اور اسے ماں اور بچی کی براہِ راست توہین اور واضح امتیازی سلوک قرار دیا گیا۔

سوشل میڈیا پر اس واقعے کی تفصیلات پھیلتے ہی یہ ایک عوامی مسئلہ بن گیا۔ بڑی تعداد میں صارفین اور کارکنوں نے ریستوران انتظامیہ کے اس عمل پر شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس کی کوئی بھی توجیہ پیش نہیں کی جا سکتی، کیونکہ ماں اور بیٹی نے مفت کھانا نہیں مانگا تھا بلکہ ان کے لیے باقاعدہ طور پر کھانا خریدا گیا تھا، جس کے بعد وہ کسی بھی دوسرے گاہک کی طرح سروس حاصل کرنے کا پورا حق رکھتی تھیں۔

بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ یہ معاملہ صرف اخلاقی غلطی یا کسی فرد کا برا رویہ نہیں ہے، بلکہ یہ اس امتیازی سلوک کی عکاسی کرتا ہے جو بنیادی انسانی اقدار کے منافی ہے اور اس سے یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ بعض تجارتی ادارے معاشرے کے کمزور طبقات کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہیں۔
انسانی حقوق کے کارکنوں نے اس واقعے کی سرکاری سطح پر تحقیقات اور ذمہ داروں کے احتساب کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ عمل مساوات اور انسانی وقار کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے اور اس ناقابلِ قبول رویے پر باز پرس ہونی چاہیے۔

ترکیہ میں اس وقت یہ واقعہ سب سے زیادہ زیرِ بحث موضوعات میں سے ایک بن چکا ہے، جہاں ریستوران کے بائیکاٹ اور انتظامیہ کے محاسبے کے مطالبات زور پکڑ رہے ہیں۔ کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ محض ایک وقتی واقعہ نہیں بلکہ ایک ایسا تکلیف دہ منظر ہے جو ضرورت مندوں کے احترام اور انسانی سلوک کے تصور میں گہری خرابی کو ظاہر کرتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں