آسٹریلیا نے کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی پر پابندی عائد کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

آسٹریلیا نے جمعے کو پاکستان کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان میں سرگرم علاحدگی پسند تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

کالعدم بی ایل اے ایک قوم پرست شدت پسند تنظیم ہے، جن کی عسکریت پسند کارروائیوں سے صوبہ انتشار کا شکار ہے۔

آسٹریلوی وزارتِ خارجہ کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے بی ایل اے اور اس کے تین سینئر رہنماؤں کو دہشت گرد حملوں میں ملوث ہونے اور ان کی حمایت کرنے پر باضابطہ طور پر پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا ہے۔

آسٹریلوی وزارتِ خارجہ کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے بی ایل اے اور اس کے تین سینئر رہنماؤں کو دہشت گرد حملوں میں ملوث ہونے اور ان کی حمایت کرنے پر باضابطہ طور پر پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ بی ایل اے پاکستان بھر میں متعدد پُرتشدد دہشت گرد حملوں میں ملوث رہی ہے۔ ان “گھناؤنے حملوں” میں شہریوں، اہم تنصیبات، غیر ملکی شہریوں اور پاکستانی ریاست کو نشانہ بنایا گیا۔

آسٹریلوی وزارت خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ ان پابندیوں کا مقصد دہشت گرد تنظیموں کی مالی معاونت روکنا، ان کی کارروائیوں کے لیے فنڈنگ محدود کرنا، بھرتیوں کا راستہ بند کرنا اور انتہاپسند نظریات کے پھیلاؤ کو روکنا ہے۔

آسٹریلوی حکومت نے اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایسے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی جاری رکھنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا جو ملکی اور عالمی سلامتی کے لیے خطرہ بن رہے ہیں۔

آسٹریلیا نے خبردار کیا ہے کہ پابندیوں کی فہرست میں شامل افراد یا تنظیموں کے اثاثے استعمال کرنا، ان سے لین دین کرنا یا انہیں مالی وسائل فراہم کرنا ایک سنگین جرم تصور ہو گا، جس پر بھاری جرمانے اور 10 سال تک قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔

بشیر زیب کالعدم بلوچ بلوچ لبریشن آرمی کے موجودہ سربراہ ہیں۔ وہ اسلم بلوچ کے بعد اس علیحدگی پسند مسلح تنظیم کے سربراہ بنے ہیں۔ ماضی میں وہ بلوچ سٹوڈنٹ آرگنائزیشن (آزاد) کے چیئرمین رہ چکے ہیں۔ ان کا تعلق نوشکی سے ہے اور بلوچستان حکومت نے ان کے سر کی بھاری قیمت مقرر کر رکھی ہے۔

امریکی تھنک ٹینک جیمز ٹاؤن فاؤنڈیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق حمل ریحان بی ایل اے کے خودکش دھڑے مجید بریگیڈ کے آپریشنل چیف ہیں اور خودکش حملوں کی منصوبہ بندی اور عملدرآمد کے ذمہ دار ہیں۔ جبکہ جئیند بلوچ تنظیم کے ترجمان اور فیلڈ کمانڈر کے طور پر جانے جاتے ہیں اور میڈیا و پروپیگنڈا حکمتِ عملی سنبھالتے ہیں۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ کسی ملک نے بی ایل اے پر پابندی لگائی ہو۔ برطانیہ نے 2006 میں اسے دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا جبکہ امریکہ نے 2019 میں بی ایل اے اور 2025 میں اس کے خودکش دھڑے مجید بریگیڈ کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔

بلوچ لبریشن آرمی گذشتہ دو دہائیوں سے بلوچستان میں مسلح کارروائیاں کر رہی ہے۔ 2018 کے بعد اس کے خودکش دھڑے مجید بریگیڈ نے حملوں میں تیزی لائی۔

رواں سال 31 جنوری کو بی ایل اے نے بلوچستان کے 12 سے زائد شہروں میں بیک وقت حملے کیے تھے جن میں سکیورٹی اہلکاروں سمیت درجنوں افراد ہلاک ہوئے۔

گذشتہ سال بولان میں جعفر ایکسپریس مسافر ٹرین کو ہائی جیک کرنے کے واقعے میں بھی تیس سے زائد افراد جان سے گئے تھے۔ بی ایل اے بلوچستان میں سکیورٹی فورسز، معدنیات کی کانوں، اہم سرکاری تنصیبات ، چینی باشندوں، کراچی ایئرپورٹ اور گوادر پورٹ پر حملوں سمیت سینکڑوں بڑے اور مہلک حملوں میں ملوث رہی ہے اور ان کے حملوں میں سینکڑوں افراد مارے جا چکے ہیں۔

بی ایل اے نے رواں سال جنوری میں پاکستان میں حملوں کی ایک نئی لہر شروع کی تھی، جسے ’آپریشن ہیروف 2.0‘ کا نام دیا گیا، جس کے دوران صوبے کے نو اضلاع میں خودکش دھماکے اور مسلح حملے کیے گئے۔ حکام کے مطابق ان حملوں میں 274 افراد جان سے گئے تھے۔

جس کے بعد پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا تھا وہ بی ایل اے کو اپنی پابندیوں کی رجیم کے تحت ایک دہشت گرد تنظیم کے طور پر نامزد کرنے کے لیے کام کرے۔

یہ گروہ غیر بلوچ افراد کو کر ٹارگٹ کلنگ، اجتماعی قتل اور انفراسٹرکچر پر مہلک تخریبی حملوں میں بھی ملوث رہا ہے۔

جیمز ٹاؤن فاؤنڈیشن کی رپورٹ کے مطابق بی ایل اے اپنی فنڈنگ کے لیے بیرون ملک مقیم میں مقیم بلوچ ڈائسپورا پر بھی انحصار کرتا ہے۔ یہ فنڈز حوالہ اور ہنڈی جیسے غیر رسمی نیٹ ورکس کے ذریعے منتقل کیے جاتے ہیں ۔

پاکستانی حکومت کا دعویٰ ہے کہ مقامی سطح پر بھتہ خوری، اغواء برائے تاوان جیسے غیر قانونی ذرائع سے آمدن کے علاوہ بی ایل اے کو انڈین خفیہ اداروں سے مالی اور تکنیکی مدد ملتی ہے تاہم انڈیا اس کی تردید کرتا رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں