برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹارمر کی لیبر پارٹی کو بلدیاتی انتخابات میں جمعے کے روز بھاری نقصان اٹھانا پڑا، جس سے ان کی قیادت پر شکوک مزید گہرے ہو گئے ہیں۔ تاہم سٹارمر کے اتحادیوں نے ان کی حمایت برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
قومی انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کیے ابھی دو سال بھی مکمل نہیں ہوئے کہ ووٹروں نے سٹارمر کی لیبر حکومت کو آئینہ دکھا دیا۔ خاص طور پر وسطی اور شمالی انگلینڈ کے ان سابق صنعتی علاقوں میں جو روایتی طور پر لیبر پارٹی کے مضبوط گڑھ سمجھے جاتے تھے۔
جمعے کے روز حکمران لیبر پارٹی کو بلدیاتی انتخابات میں بھاری نقصان اٹھانا پڑا، جس سے وزیر اعظم کیئر سٹارمر کی حکمرانی کی صلاحیت پر شکوک مزید گہرے ہو گئے ہیں۔ تاہم انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ 'تبدیلی‘ لانے کے اپنے وعدے کو پورا کرنے کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔
ان بلدیاتی انتخابات میں سب سے زیادہ فائدہ بریگزٹ کی حامی مہم کے رہنما نائجل فراج کو ہوا۔ ان کی ریفارم یو کے نامی پارٹی نے انگلینڈ میں 350 سے زائد کونسل نشستیں حاصل کیں، جب کہ یہ پارٹی اسکاٹ لینڈ اور ویلز میں آزادی کی حامی جماعتوں سکاٹش نیشنلسٹ پارٹی اور پلائد کامری کے مقابلے میں اہم اپوزیشن کے طور پر بھی ابھر سکتی ہے۔
نتائج سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ برطانیہ کا روایتی دو جماعتی سیاسی نظام اب ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر کثیر الجماعتی جمہوریت میں تبدیل ہو رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ گذشتہ ایک صدی میں برطانوی سیاست کی سب سے بڑی تبدیلیوں میں سے ایک ہے۔
کبھی سیاست پر حاوی رہنے والی لیبر اور کنزرویٹو پارٹیاں اب ووٹرز کھو رہی ہیں جب کہ ایک طرف ریفارم یو کے اور دوسری جانب گرین پارٹی اپنا اثر بڑھاتی جا رہی ہیں، اور اسکاٹ لینڈ اور ویلز میں قوم پرست جماعتوں کو بھی حمایت مل رہی ہے۔
انتخابی نقصانات کے باوجود کیئر سٹارمر کے اتحادیوں نے ان کی حمایت کا اشارہ دیا، حالانکہ ان کی عوامی مقبولیت برطانیہ کے کسی بھی وزیر اعظم کے مقابلے میں بدترین سطحوں میں شمار کی جا رہی ہے۔
وزیر اعظم سٹارمر نے اپنی جماعت کے لیے ایک نسبتاً مثبت انتخابی مقام کا دورہ بھی کیا تاکہ یہ واضح کر سکیں کہ وہ اپنی پالیسیوں پر عمل جاری رکھیں گے۔
انہوں نے مغربی لندن کے علاقے ایلنگ میں، جہاں لیبر پارٹی لوکل کونسل پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے میں کامیاب رہی، صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ''میں پیچھے ہٹنے والا نہیں ہوں۔‘‘
سٹارمر نے کہا کہ ووٹر ان کی قیادت کے بجائے تبدیلی کی رفتار کے بارے میں زیادہ فکر مند ہیں۔ انہوں نے برطانیہ کو بدلنے کے لیے ضروری اقدامات متعارف کرانے کا وعدہ کیا، جو اس حکومت کی ایک نئی حکمت عملی کی علامت ہے۔
حکومت اب تک اپنے قومی وژن کو عوام تک مؤثر انداز میں پہنچانے اور مہنگائی اور بڑھتے ہوئے اخراجات زندگی کے بحران سے نمٹنے میں مشکلات کا شکار رہی ہے، ایک ایسا بحران جو یوکرین اور ایران کے تنازعات کے باعث مزید سنگین ہو گیا ہے۔
انگلینڈ کی 136 مقامی کونسلوں اور سکاٹ لینڈ اور ویلز کی خود مختار پارلیمانوں کے انتخابات میں لیبر پارٹی کو ہونے والے بڑے نقصان سے انکار ممکن نہیں۔ یہ انتخابات 2029 میں متوقع اگلے قومی عام انتخابات سے قبل عوامی رائے کا سب سے اہم امتحان سمجھے جا رہے ہیں۔