برطانوی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ برطانیہ اور فرانس آج پیر کے روز 40 سے زائد ممالک کے اجلاس کی میزبانی کریں گے۔
برطانوی بیان کے مطابق اجلاس میں آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری جہازوں کی آمدورفت بحال کرنے کے لیے فوجی منصوبوں پر غور کیا جائے گا۔
توقع ہے کہ مختلف ممالک بارودی سرنگوں کی صفائی، بحری جہازوں کی سکیورٹی اسکورٹ اور فضائی نگرانی کی صلاحیتیں پیش کریں گے، تاکہ تجارتی جہازوں کو اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے میں اعتماد فراہم کیا جا سکے۔
یہ اعلان ایران کی جانب سے برطانیہ اور فرانس کو خطے میں بحری جنگی جہاز تعینات کرنے کے خلاف انتباہ کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی امریکی امن تجویز پر دیے گئے جواب کو فوری طور پر مسترد کرنے کے بعد پیر کے روز تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ گزشتہ 10 ہفتوں سے جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت مزید متاثر رہ سکتی ہے۔
ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق تہران نے جنگی نقصانات کے ازالے کا مطالبہ کرتے ہوئے آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری پر زور دیا ہے۔
نیم سرکاری ایرانی خبر ایجنسی ''تسنیم'' کے مطابق ایران نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بحری ناکہ بندی ختم کرے، مزید حملوں کی ضمانت نہ دے، پابندیاں اٹھائے اور ایرانی تیل کی فروخت پر عائد امریکی پابندی ختم کرے۔چند ہی گھنٹوں بعد صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایران کی تجویز مسترد کر دی۔
ٹرمپ نے اپنے پلیٹ فارم ''ٹروتھ سوشل'' پر لکھا: مجھے یہ پسند نہیں آیا، یہ بالکل ناقابل قبول ہے، تاہم انہوں نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔