اینڈریا پینیا فٹ بال ورلڈ کپ کی تیاریوں میں مصروف ہیں اور ان کے پاس میکسیکو میں ہونے والے میچوں کی ٹکٹیں بھی موجود ہیں۔ میکسیکو ایک ایسا ملک ہے جہاں طویل عرصے تک سٹیڈیم کے اسٹینڈز میں خواتین کو محض ایک آرائشی عنصر کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے، جبکہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق وہاں خواتین کے خلاف تشدد کے سنگین مسائل موجود ہیں جس کی وجہ سے روزانہ 10 خواتین اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں۔
اینڈریا پینیا اپنی نوعمری سے ہی میکسیکو کے کلب بوماس کی مداح ہیں۔ انتیس سال کی عمر میں وہ کلب کے الٹراس گروپ ’لا ریبل‘ کی رکن بنیں جہاں ان کی ملاقات اپنے شوہر سے ہوئی۔ اب وہ اس ورلڈ کپ کے لیے تیار ہیں جو اس موسم گرما میں میکسیکو، امریکہ اور کینیڈا کے اشتراک سے منعقد ہو رہا ہے۔
انہوں نے خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے امریکہ مونٹیری اور گواڈالاجارا میں میچ دیکھنے کے لیے سفر کا منصوبہ بنایا ہے اور یہاں 11 جون سنہ 2026ء کو ہونے والے افتتاحی میچ کے لیے بھی تیاریاں مکمل ہیں۔
میکسیکی صدر کلاڈیا شینبوم اس میچ میں تاریخی ’ازٹیکا‘ سٹیڈیم میں موجود نہیں ہوں گی بلکہ وہ دارالحکومت کے قلب میں واقع سوکالو اسکوائر میں اپنے حامیوں کے ساتھ تقریب دیکھیں گی۔ ان کی جگہ صدارتی باکس میں ایک نوجوان لڑکی موجود ہوگی جس نے فٹ بال کنٹرول کرنے کا مقابلہ جیتا ہے۔
میکسیکو اس سے قبل سنہ 1970ء اور سنہ 1986ء میں فٹ بال کے سب سے بڑے عالمی میلے کی میزبانی کر چکا ہے۔ پہلے میلے میں پیلے اور دوسرے میں ڈیاگو میراڈونا نے اسی ’ازٹیکا‘ سٹیڈیم میں تاجِ کامرانی سر پر سجایا تھا۔ اس دور میں اسٹینڈز میں موجود خواتین کا تصور آج سے بہت مختلف تھا۔ بہت سے لوگوں کو چار دہائیاں قبل کا وہ ’چیکیٹیبوم‘ گیت یاد ہے جب ہسپانوی اداکارہ مار کاسٹرو ایک اشتہار میں مختصر لباس پہنے مرد مداحوں کے جھرمٹ میں رقص کرتی دکھائی دی تھیں۔
میٹوفسکی انسٹی ٹیوٹ کے ایک سروے کے مطابق 25 فیصد میکسیکی خواتین ورلڈ کپ میں دلچسپی رکھتی ہیں جبکہ مردوں میں یہ شرح 44 فیصد ہے۔
سنہ 2019ء میں خواتین کی پروفیشنل لیگ کے لیے مداحوں کا گروپ بنانے والی لوس فاری کہتی ہیں کہ ہمیں بطور خواتین یہ ثابت کرنا پڑتا ہے کہ ہم فٹ بال کے بارے میں جانتے ہیں۔ اگر آپ کو تمام کھلاڑیوں کے نام معلوم نہ ہوں تو سمجھا جاتا ہے کہ آپ فٹ بال سے نابلد ہیں۔ ہم سے ایسی چیزیں پوچھی جاتی ہیں جن کا علم خود مردوں کو بھی نہیں ہوتا۔
اس موسم گرما میں ہونے والے ورلڈ کپ کے دوران دو خواتین بطور مین امپائر ذمہ داریاں نبھائیں گی جن میں سے ایک میکسیکو کی کاٹیا گارسیا ہیں۔ اسی طرح گذشتہ چند برسوں سے خواتین کھیلوں کی صحافت میں بھی اپنی جگہ بنا رہی ہیں جو کہ اب تک مردوں کے غلبے والا شعبہ رہا ہے۔