امریکی حملوں سے بچاؤ ، ایران نے اپنے طیارے خفیہ طور پر بیرونی اڈے منتقل کر دیے : CBS نیوز
امریکی عہدے داران کے مطابق ایران نے کچھ سول طیارے بھی افغانستان منتقل کر دیے ہیں
سی بی ایس نیوز (CBS News) نے سکیورٹی فائل سے واقف امریکی حکام کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان نے خاموشی سے ایرانی فوجی طیاروں کو اپنے فضائی اڈوں پر تعینات ہونے کی اجازت دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد بظاہر ان طیاروں کو ممکنہ امریکی فضائی حملوں سے بچانا ہے، جبکہ اسلام آباد عوامی سطح پر تہران اور واشنگٹن کے درمیان خود کو ایک سفارتی ثالث کے طور پر پیش کرتا رہا ہے۔
حکام کے مطابق ایران نے پڑوسی ملک افغانستان میں بھی شہری طیارے بھیجے ہیں۔ یہ اقدام بڑھتے ہوئے فوجی تصادم کے پیش نظر اپنے باقی ماندہ فضائی اور فوجی اثاثوں کو محفوظ بنانے کی ایک واضح کوشش ہے۔
قومی سکیورٹی کے معاملات کی حساسیت کے باعث نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرنے والے امریکی حکام نے اشارہ کیا کہ تہران نے کئی طیارے اپریل کے اوائل میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ جنگ بندی کے اعلان کے چند روز بعد منتقل کیے، یہ طیارے پاکستان میں راولپنڈی کے قریب واقع پاک فضائیہ کے نور خان ایئر بیس پر اترے۔
منتقل کیے گئے آلات میں ایرانی فضائیہ کا ایک جاسوس طیارہ ماڈل RC-130 بھی شامل ہے، جو کہ مشہور امریکی فوجی مال بردار طیارے لاک ہیڈ C-130 ہرکولیس کا ایک جدید انٹیلی جنس ورژن ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے براہ راست تبصرے سے گریز کرتے ہوئے سوالات کو پاکستانی اور افغان حکام کی طرف موڑ دیا ہے۔ دوسری جانب ایک اعلیٰ پاکستانی عہدے دار نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ نور خان ایئر بیس ایک کھلے شہری علاقے میں واقع ہے اور وہاں کسی بڑے فضائی بیڑے کو چھپانا ممکن نہیں ہے۔
افغانستان میں سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ایک اہل کار نے بتایا کہ ایرانی کمپنی "ماہان ایئر" کا ایک سویلین طیارہ جنگ چھڑنے سے کچھ دیر پہلے کابل میں اترا تھا اور ایرانی فضائی حدود بند ہونے کے بعد وہیں رک گیا۔ بعد ازاں تناؤ میں اضافے اور مارچ کے دوران کابل پر پاکستانی فضائی حملوں کے بعد، اس طیارے کو حفاظت کی خاطر ایرانی سرحد کے قریب ہرات ایئرپورٹ منتقل کر دیا گیا۔
تاہم طالبان کے مرکزی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے افغان سرزمین پر کسی بھی ایرانی طیارے کی موجودگی کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو ایسے اقدامات کی ضرورت نہیں ہے۔
یہ پیش رفت وسیع تر علاقائی تبدیلیوں کے تناظر میں سامنے آئی ہے، کیونکہ گذشتہ دہائی کے دوران پاکستان کا فوجی انحصار چین پر بڑھ گیا ہے۔ اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق، بیجنگ نے 2020 اور 2024 کے درمیان اسلام آباد کو اس کے تقریباً 80 فیصد بڑے ہتھیار فراہم کیے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ دونوں فریقوں کے درمیان گہرے اقتصادی تعلقات بھی ہیں۔
امریکی اندازوں کے مطابق پاکستان اس بحران میں ایک نازک توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ وہ واشنگٹن کے سامنے استحکام کے ثالث کے طور پر ظاہر ہونا چاہتا ہے، بغیر کوئی ایسا قدم اٹھائے جو تہران یا ایران کے سب سے بڑے عالمی حامی چین کو ناراض کر دے۔
چین نے ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ رابطوں میں سہولت کاری کے حوالے سے پاکستانی کردار کی عوامی سطح پر تعریف کی ہے، ایک ایسے وقت میں جب فوجی حساب کتاب بڑی طاقتوں کے درمیان جیو پولیٹیکل مقابلے کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔
دریں اثنا ایرانی سرکاری میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ جنگ ختم کرنے کے لیے تہران کی حالیہ تجویز میں امریکہ سے جنگی ہرجانے کے مطالبات، آبنائے ہرمز پر ایرانی خود مختاری کا اعتراف اور اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ شامل تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی تجویز کو قطعی طور پر ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا، تاہم ان نکات کی وضاحت نہیں کی جن کی وجہ سے واشنگٹن نے اسے مسترد کیا۔
امریکی انکار نے اس جنگ بندی کی نزاکت کو بڑھا دیا ہے جو اب صرف نام کی دکھائی دیتی ہے، خاص طور پر جب ٹرمپ اس ہفتے چینی صدر شی جن پنگ سے بات چیت کے لیے بیجنگ کا دورہ کرنے والے ہیں۔ توقع ہے کہ اس دورے کے ایجنڈے میں تجارتی تنازعات اور تائیوان کے معاملے کے ساتھ ساتھ ایران کا معاملہ سرفہرست ہو گا۔
میدانی طور پر اتوار کو آبنائے ہرمز کے قریب محدود جھڑپیں جاری رہیں، جو کہ جنگ بندی کی کمزوری کو ظاہر کرتی ہیں۔ متحدہ عرب امارات نے اعلان کیا ہے کہ اس کے علاقوں کو ایک بار پھر ایرانی ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ گذشتہ ہفتے آبنائے سے گزرتے ہوئے تین امریکی تباہ کن جہازوں (destroyers) پر حملے کیے گئے تھے، جس کے بعد واشنگٹن نے آبنائے ہرمز کے ساحل پر واقع دو ایرانی بندرگاہوں پر حملے کیے تھے۔