فلسطین کے لیے جاپانی نمائندے نے بتایا ہے کہ ان کے ملک نے فلسطینیوں کے علاقوں میں تعلیم اور صحت کے شعبوں کے لیے عالمی بنک کے ذریعے 12 ملین ڈالر دیے ہیں تاکہ یہ رقم فلسطین کے مالی استحکام کا ذریعہ بنے اور تعلیم و صحت کے منصوبوں پر خرچ ہو سکے۔
جاپان کے نمائندہ دفتر کا کہنا تھا کہ یہ رقم فلسطین کے ضروری شعبوں میں کارکردگی بہتر کرنے اور غزہ جنگ کی وجہ سے بڑھے ہوئے مالی خسارے کے دوران کام آئے گی۔ یاد رہے اسرائیل نے جنگ کے دوران فلسطینی اتھارٹی کے مالیات سے متعلق ترسیل کو روک رکھا ہے۔
مزید بتایا گیا ہے کہ اس رقم کا تقریبا 60 فیصد حصہ صحت اور تعلیم کے شعبوں میں خرچ ہوگا۔ یہ دونوں شعبے بری طرح پامال ہوئے ہیں۔ ابتدائی طور پر ان شعبوں کے سٹاف کی تنخواہوں کی ادائیگی ممکن ہوسکے گی۔ کیونکہ ان دونوں شعبوں میں سکولوں اور ہیلتھ کیئر سہولیات کے آپریشنز کا جاری رکھنا خطرے میں پڑ چکا ہے۔
فلسطینی خبر رساں ادارے 'وفا' کے مطابق یہ رقم عالمی بنک کے توسط سے متعلقہ شعبوں میں تقسیم ہوگی۔ صحت کے شعبے سے 8040 لوگوں کو ہسپتالوں میں علاج معالجے کی سہولت کے علاوہ ہسپتالوں کو طبی آلات ملیں گے۔ نیز ادویات کی سپلائی ممکن بنائی جائے گی۔
نمائندہ دفتر کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ جاپان کا 'پی ایف آر ڈی' پروگرام مشکل میں گھرے طبقوں کی بحالی کی کوششوں میں مدد دیتا ہے۔ نیز انسانی سرمائے کے بچاؤ اور نجی شعبے کے تحفظ کے لیے کام کرتا ہے۔ اس لیے جاپان فلسطینیوں کے لیے چیلنج بنے ہوئے ان وقتوں میں فلسطینیوں کی مدد کے لیے کمٹمنٹ رکھتا ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کی مدد جاری رکھی جائے گی۔