ویتنام سے اجتماعی ہجرت، بیسویں صدی کا ایک بڑا انسانی بحران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

1940 کی دہائی کے اواخر میں فرانس کو ویتنامی مزاحمتی تحریکوں کی شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا، جن کی قیادت ہو چی منہ کر رہے تھے۔ یہ جنگ بعد میں ''ڈین بین فو'' کی فیصلہ کن لڑائی کے بعد اپنے اختتام کو پہنچی۔

اس تنازعے کو ختم کرنے کی کوشش میں تمام فریقین کے درمیان مذاکرات شروع ہوئے، جن کے نتیجے میں 1954 میں جنیوا معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔

اس معاہدے کے بعد ویتنام میں بڑے پیمانے پر ہجرت کی ایک لہر دیکھی گئی، جسے تاریخ کی سب سے بڑی اجتماعی نقل مکانیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

اس دوران لاکھوں افراد نے شمالی ویتنام میں قائم کمیونسٹ نظام سے بچنے کے لیے ملک کے دوسرے حصوں یا بیرونِ ملک منتقل ہونے کو ترجیح دی۔


شمالی ویتنام کی صورتحال

جنیوا معاہدوں کے 1954 میں دستخط کے بعد سرد جنگ کے تناظر میں یہ طے پایا کہ ویتنام کو دو حصوں میں تقسیم کیا جائے گا اور خطِ عرض 17 کو دونوں کے درمیان حدِ فاصل بنایا جائے گا۔

اس طرح ویتنام شمالی اور جنوبی حصوں میں بٹ گیا، شمالی ویتنام پر کمیونسٹوں کا کنٹرول تھا جبکہ جنوبی ویتنام مغربی اثر و رسوخ کے تحت آ گیا۔

دوسری جانب یہ بھی طے ہوا کہ 1956 تک ملک کے دوبارہ اتحاد کے لیے انتخابات کرائے جائیں گے، تاہم یہ انتخابات منعقد نہ ہو سکے اور یوں ویتنام بتدریج ایک خونی خانہ جنگی کی طرف بڑھ گیا۔

تقسیم کے بعد شمالی ویتنام میں تیزی سے زرعی اصلاحات نافذ کی گئیں، جن میں اجتماعی کھیتی باڑی اور زمینوں کی ضبطی شامل تھی۔

کمیونسٹ حکومت نے سیاسی زندگی پر سخت کنٹرول قائم کیا اور مخالفین کے خلاف کارروائیاں شروع کیں۔

ان حالات نے شمالی ویتنام میں رہنے والے کئی گروہوں، خصوصاً فرانسیسی دور کے سابق فوجیوں اور شہریوں، بالخصوص کیتھولک آبادی میں شدید بے چینی پیدا کی جو حکومتی جبر کے خوف میں مبتلا ہو گئے۔

800 ہزار سے 10 لاکھ مہاجر

شمالی ویتنام میں کمیونسٹوں کی سرگرمیوں اور ان کے مکمل کنٹرول کے خدشے کے پیش نظر امریکہ نے فوری طور پر ''پاسج ٹو فریڈم'' (Passage to Freedom) کے نام سے ایک منصوبہ تیار کیا۔

اس کے تحت امریکی بحریہ کو ہنگامی بنیادوں پر شمال سے جنوبی ویتنام کی طرف بڑے پیمانے پر انخلا کی کارروائی کے لیے تیار کیا گیا۔

اس آپریشن میں فرانسیسی تعاون سے بڑی تعداد میں جہاز، جنگی بحری جہاز، فوجی ٹرانسپورٹ اور کارگو شپ استعمال کیے گئے۔

اس دوران پورے خاندانوں، سیاسی مخالفین، سابق فوجیوں اور انتظامی اہلکاروں کو شمالی ویتنام سے جنوبی ویتنام منتقل کیا گیا۔

امریکی حکام نے پہلے ہی ہجوم، بیماریوں اور ادویات کی کمی جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔

جنوبی ویتنام پہنچنے والے افراد کو عارضی پناہ گاہوں میں رکھا گیا جہاں طبی مراکز اور خوراک کی تقسیم کے انتظامات موجود تھے۔

1954 سے 1955 کے دوران اس آپریشن کے ذریعے تقریباً 3 لاکھ 10 ہزار افراد کو شمالی ویتنام سے جنوبی ویتنام منتقل کیا گیا، جبکہ مجموعی طور پر اس عرصے میں ہجرت کرنے والوں کی تعداد تقریباً 8 لاکھ سے 10 لاکھ تک پہنچ گئی۔

اس بڑے پیمانے پر نقل مکانی کے باعث شمالی ویتنام سے کئی اہم ہنر مند افراد اور مخالفین نکل گئے، جبکہ جنوبی ویتنام کو رہائش، معیشت اور وسائل کے شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔

شمالی ویتنام نے اس عمل پر امریکہ پر الزام عائد کیا کہ وہ اس کے خلاف ایک منظم سازش کر رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں