ایرانی طیاروں کی پاکستانی اڈوں پر موجودگی کی خبریں گمراہ کن: وزارت خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکی حکام کی جانب سے پاکستان کے فضائی اڈوں پر ایرانی فوجی طیاروں کی موجودگی کے انکشاف کے بعد اسلام آباد نے اس حوالے سے وضاحت جاری کی ہے۔

منگل کو جاری ہونے والے ایک بیان میں پاکستان نے واضح کیا کہ نور خان ایئر بیس پر پہنچنے والے ایرانی طیارے سفارت کاروں کی منتقلی میں سہولت فراہم کرنے کے لیے تھے۔ یہ بات العربیہ کے نمائندے نے رپورٹ کی۔ پاکستان کا موقف ہے کہ یہ طیارے نور خان بیس پر عارضی طور پر قیام پذیر تھے تاکہ امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات اور رابطوں کے اگلے ادوار میں مدد مل سکے۔ بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ان طیاروں کا کسی بھی قسم کے فوجی انتظامات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

پاکستان 28 فروری سے شروع ہونے والی جنگ کے خاتمے اور فریقین کے مابین نقطہ نظر کو قریب لانے کے لیے ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اس نے نور خان بیس پر ایرانی طیاروں کی موجودگی سے متعلق رپورٹ کو قطعی طور پر مسترد کر دیا۔ اسلام آباد نے ایسی رپورٹس کو "گمراہ کن بیانیہ" قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد قیامِ امن کی کوششوں کو نقصان پہنچانا ہے۔ پاکستان نے اپنے غیر جانب دارانہ اور ذمے دارانہ کردار پر قائم رہنے کا اعادہ کیا تاکہ کشیدگی میں کمی اور مکالمے کو فروغ دیا جا سکے۔

پاکستان میں نور خان بیس پر عراقچی(آرکائیو - رائٹرز)
پاکستان میں نور خان بیس پر عراقچی(آرکائیو - رائٹرز)

یہ وضاحت ان امریکی رپورٹس کے بعد سامنے آئی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اسلام آباد نے ایرانی طیاروں کو اپنے اڈوں پر پناہ دی ہے تاکہ انہیں ممکنہ امریکی فضائی حملوں سے بچایا جا سکے۔ "سی بی ایس" نیوز چینل کے مطابق تہران نے اپنے فضائی و فوجی اثاثوں کے تحفظ کے لیے کچھ سول طیارے افغانستان بھی منتقل کیے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ منتقلی 8 اپریل کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کے چند روز بعد عمل میں آئی۔ ان طیاروں میں ایرانی فضائیہ کا جاسوس طیارہ RC-130 بھی شامل بتایا جاتا ہے۔ دوسری جانب ماہان ایئر کا ایک سول طیارہ جو جنگ سے قبل کابل میں تھا، مارچ میں افغان دارالحکومت پر پاکستانی بم باری کے بعد حفاظت کی خاطر ہرات ایئرپورٹ منتقل کر دیا گیا۔

سی این این کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے بعض حکام پاکستانی ثالثی کے انداز پر شکوک کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ پاکستان ایرانی موقف کو حقیقت سے زیادہ مثبت بنا کر پیش کر رہا ہے اور امریکی ناراضگی کو تہران تک اتنی سختی سے نہیں پہنچا رہا جتنا کہ مطلوب ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان گذشتہ کئی ماہ سے دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کے لیے فعال طور پر کوشاں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں