یورویژن موسیقی مقابلہ اس ہفتے عوامی ووٹنگ کے ان نئے قوانین کے حوالے سے ایک سخت امتحان سے دوچار ہے جو گذشتہ برس اسرائیل کی جانب سے ووٹوں کو منظم کرنے اور غیر معمولی حمایت حاصل کرنے کی شکایات کے بعد متعارف کرائے گئے ہیں۔ اس چیلنج میں اسرائیل کی شرکت کے باعث بائیکاٹ کی مہمات نے مزید شدت پیدا کر دی ہے۔
ووٹنگ کے ریکارڈز پر تنازعات اور شریک قومی نشریاتی اداروں کے درمیان مسابقت اس ٹورنامنٹ کے لیے کوئی نئی بات نہیں ہے، جس کا سترواں ایڈیشن اس ہفتے منعقد ہو رہا ہے اور اس کا اختتام آئندہ ہفتے کے روز ہو گا۔
مقابلے کے منتظم ’یورپی براڈکاسٹنگ یونین‘ نے سنہ 2026ء کے لیے نئے ضوابط متعارف کرائے ہیں تاکہ حکومتوں اور تیسرے فریق کی جانب سے غیر متناسب تشہیری مہمات چلانے کی صلاحیت کو محدود کیا جا سکے۔ یہ قدم ان خدشات کے بعد اٹھایا گیا ہے جن میں گذشتہ سال کی ووٹنگ کے دوران اسرائیل کی غیر معمولی کارکردگی کی طرف اشارہ کیا گیا تھا۔
اسرائیل نے، جو کہ ان قوانین کی پاسداری کا دعویٰ کرتا ہے، گذشتہ برس اپنے مجموعی پوائنٹس کا 83 فیصد حصہ عوام سے حاصل کیا تھا۔ اس کے برعکس، فاتح قرار پانے والے آسٹریا کے گانے کو عوام سے صرف 41 فیصد ووٹ ملے تھے اور اسے ٹاپ پر پہنچنے کے لیے قومی جیوری کے تعاون پر بھروسہ کرنا پڑا تھا۔
گذشتہ برس کے سیمی فائنل کے دوران اسرائیلی وزارت خارجہ کے زیر انتظام ’ایکس‘ اکاؤنٹ سے ایسی پوسٹس اور تصاویر شیئر کی گئی تھیں جن میں لوگوں کو اپنی گلوکارہ یوول رافیل کے حق میں ووٹ دینے کی ترغیب دی گئی تھی اور بتایا گیا تھا کہ آپ ایک ساتھ 20 مرتبہ ووٹ ڈال سکتے ہیں۔
یورویژن مقابلہ کے ڈائریکٹر مارٹن گرین نے ان پوسٹس کا براہِ راست حوالہ دیے بغیر ’رائٹرز‘ کو بتایا کہ گذشتہ سال ہم نے کچھ ایسی سرگرمیاں دیکھیں جنہیں غیر متناسب مارکیٹنگ اور تشہیری مہم کہا جا سکتا ہے، اور ہم نے محسوس کیا کہ یہ پروگرام کی روح کے مطابق نہیں ہیں، اس لیے ہم نے اس حوالے سے کچھ نئے قوانین وضع کیے ہیں۔
ان تبدیلیوں کے تحت اب ہر کالر یا ووٹر، جس کی شناخت ادائیگی کے طریقے سے کی جائے گی، اپنے پسندیدہ گانوں کے لیے صرف 10 ووٹ دے سکے گا، جو کہ گذشتہ برس کی اجازت سے نصف تعداد ہے۔
گرین نے گذشتہ ہفتے کے روز بتایا کہ انہوں نے اسرائیلی نشریاتی ادارے (ریڈیو کان) کو اس سال کے اسرائیلی مدمقابل نوعام بیتان کی جانب سے انٹرنیٹ پر شیئر کی گئی ان ویڈیوز پر رسمی وارننگ جاری کی ہے جن میں اسرائیل کے لیے 10 بار ووٹ دینے کی ہدایات دی گئی تھیں۔
اسرائیل جو اکثر یہ کہتا ہے کہ اسے عالمی سطح پر بدنام کرنے کی مہم کا سامنا ہے بالخصوص جب سے غزہ جنگ شروع ہوئی ہے، گذشتہ برس کی اپنی تشہیری کوششوں کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر تاحال کوئی براہِ راست جواب نہیں دیا۔