ایک اوپیرا کے باعث چین میں ثقافتی انقلاب جو کروڑوں افراد کی موت کا باعث بنا

یہ ثقافتی انقلاب ماؤزے تنگ کے بقیہ دور حکومت تک جاری رہا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

سنہ 1949ء کے دوران چینی خانہ جنگی میں ایک تیز رفتار تبدیلی دیکھی گئی جس کے نتیجے میں قوم پرستوں کے مقابلے میں کمیونسٹوں کو فتح حاصل ہوئی۔ سوویت یونین کی مدد سے ماؤزے تنگ کی قیادت میں کمیونسٹوں نے جنگ کے مختلف محاذوں پر تیزی سے پیش قدمی کی اور بتدریج ان قوم پرستوں کو ملک سے باہر نکالنے میں کامیاب ہو گئے جنہوں نے پیچھے ہٹ کر تائیوان کے جزیرے کا رخ کرنے کو ترجیح دی تھی۔

چین کی سرزمین پر ماؤزے تنگ نے عوامی جمہوریہ چین کے قیام کا اعلان کیا جبکہ تائیوان میں قوم پرستوں نے جمہوریہ چین کی پیدائش کا اعلان کیا جسے مغربی طاقتوں کی حمایت اور شناخت حاصل ہوئی۔

ماؤزے تنگ کے دور حکومت کے دوران عوامی جمہوریہ چین کو کئی آفات اور بحرانوں کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ سب کچھ ایک ایسی جابرانہ پالیسی کے ساتھ ساتھ ہوا جو سنہ 1966ء میں شروع ہونے والے نام نہاد ثقافتی انقلاب کے دوران اپنے عروج پر پہنچ گئی تھی۔

اوپیرا کا بحران

سنہ 1965ء اور سنہ 1966ء کے درمیان بیجنگ میں پیش کیے جانے والے ایک اوپیرا (ڈرامے) نے ملک میں افراتفری کی صورتحال پیدا کر دی۔ اس ڈرامے میں ہائی روئی نامی ایک ریاستی اہلکار کا تذکرہ کیا گیا تھا جس نے منگ خاندان کے لیے کام کیا تھا اور کسانوں کے حقوق کی وکالت کرنے کی وجہ سے ان کی محبت اور ہمدردی حاصل کی تھی۔ اس ڈرامے میں کسانوں پر حکومت کی طرف سے کیے جانے والے مظالم کا بھی ذکر کیا گیا تھا اور ہائی روئی کو ایک مصلح اور نجات دہندہ کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔

اس کے علاوہ بہت سے لوگوں نے اس اوپیرا کو ماؤزے تنگ کی پالیسی اور 'گریٹ لیپ فارورڈ' (عظیم چھلانگ) پروگرام پر ایک پوشیدہ تنقید کے طور پر دیکھا جس کے نتیجے میں چین میں صرف 4 سال کے عرصے میں کروڑوں افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔ مخالفین نے جنرل پینگ دیہوائی کو اوپیرا کے کردار ہائی روئی سے تشبیہ دی کیونکہ اس جنرل نے برطرف اور قید ہونے سے قبل علانیہ طور پر ماؤزے تنگ کی پالیسیوں پر تنقید کی تھی۔

اس دوران ماؤزے تنگ کے حامیوں نے اس اوپیرا پر سخت تنقید کی اور اسے بورژوا (سرمایہ دارانہ) قرار دیتے ہوئے اس کے مصنف وو ہان پر پارٹی اور ملک کے نظریات کے خلاف اقدار پھیلانے کا الزام لگایا۔ صورتحال کو سنبھالنے کی امید میں بیجنگ کے میئر اور بیجنگ کمیونسٹ پارٹی کمیٹی کے سربراہ پینگ ژین نے مداخلت کی اور ان تنقیدوں کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوشش کی۔ ساتھ ہی ان خیالات کے بہاؤ کو بھی بند کرنے کی کوشش کی جو اوپیرا کا موازنہ ماؤزے تنگ کی پالیسی سے کر رہے تھے۔

دوسری طرف ماؤزے تنگ نے بیجنگ میں پارٹی حکام کی جانب سے تنقید کے پھیلاؤ کو روکنے کے عمل پر سخت اعتراض کیا اور ان پر حقائق چھپانے کا الزام لگایا۔ مارچ اور مئی سنہ 1966ء کے درمیان چینی کمیونسٹ پارٹی کے اعلیٰ رہنماؤں کے کئی اجلاس منعقد ہوئے تاکہ اس اوپیرا اور اس پر ماؤزے تنگ کے ردعمل پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔

ثقافتی انقلاب کا آغاز

اپریل سنہ 1966ء کے آخر میں کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی نے بیجنگ میں سرگرم ان انجمنوں کے کام کو ختم کرنے کی منظوری دی جنہوں نے گذشتہ دنوں اوپیرا پر ہونے والی تنقید پر پابندی عائد کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس کے ساتھ ہی بیجنگ کمیونسٹ پارٹی کی اس کمیٹی کو تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا جس کی قیادت پینگ ژین کر رہے تھے اور اوپیرا کے بحران کے دوران ان کے کردار پر سخت تنقید کی گئی۔

سنہ 1966ء کے 16 مئی کے اعلامیے کے ذریعے کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی نے باضابطہ طور پر گذشتہ فیصلوں کو قبول کرنے کا اعلان کیا۔

اس اقدام نے ریاست پارٹی اور فوج کے اعلیٰ حکام کے اندر ان لوگوں کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے ماؤزے تنگ کے نقطہ نظر کی حمایت کی جنہیں اس وقت بورژوا تخریب کار کہا گیا تھا۔ پارٹی کے کئی ثقافتی عہدیداروں پر بورژوا ثقافت کو فروغ دینے کا الزام بھی لگایا گیا۔ چینی حکام نے اس وقت ملک کو پرولتاریہ (مزدور طبقے) کی آمریت سے بورژوا آمریت میں تبدیل ہونے سے روکنے کے لیے بڑے پیمانے پر تطہیر کے عمل کی اہمیت پر زور دیا۔

سولہ مئی کا یہ اعلان اس ثقافتی انقلاب کی شروعات کا سبب بنا جس کا ماؤزے تنگ ملک میں اپنے تمام مخالفین کو ختم کرنے کے لیے بے صبری سے انتظار کر رہے تھے۔ یہ ثقافتی انقلاب سنہ 1976ء میں ماؤزے تنگ کی وفات تک جاری رہا اور اس کے نتیجے میں کروڑوں افراد ہلاک ہوئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں