غزہ جنگ مخالف کارکن کو 'ڈی پورٹ' کرنے کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کا دباؤ پھر شروع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

غزہ میں اسرائیلی جنگ کے دوران جنگ مخالف مہم کے امریکی تعلیمی دنیا میں متحرک رہنے والے انسانی حقوق کے اہم کارکن محمود خلیل نے اپنی ملک بدری کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کے ایک بار پھر شروع کر دیے گئے دباؤ کے خلاف مقدمہ کھولنے کا مطالبہ کیا ہے۔

محمود خلیل جو جنگ مخالف طلبہ مہم میں مظاہرین کا اہم چہرہ ہونے کی وجہ سے جیل بھی جا چکے ہیں اور انہیں امریکہ بدر کیے جانے کے معاملہ کا بھی سامنا کرنا پڑ چکا ہے۔ ان کے وکلاء کے مطابق عدالت سے ان کے مؤکل کو ملنے والے ریلیف کے بعد ایک بار پھر ٹرمپ انتظامیہ انہیں ملک سے نکالنے کے لیے امیگریشن حکام پر دباؤ ڈال رہی ہے اور اس سلسلے میں خفیہ طور پر دباؤ کے لیے اپنی کاریگری بروئےکار لا رہی ہے۔

واضح رہے امریکی صدر ٹرمپ امریکہ میں امیگریشن کے معاملات اور غیر ملکیوں کو امریکی عوام کے خلاف قرار دینے کے سلسلے میں خود کو ایک چیمپیئن کے طور پر دیکھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ امیگریشن کے مسائل سے امریکہ کو نجات دلانے کے لیے قوانین میں تبدیلی کر کے غیر ملکیوں کو واپس بھیجیں۔ ان کی انتظامیہ نے پچھلے سال ماہ مارچ میں بھی محمود خلیل کو غزہ جنگ کی کھلی مخالفت کی وجہ سے ملک سے 'ڈی پورٹ' کرنے کی ایک کوشش کی تھی۔

محمود خلیل کولمبیا یونیورسٹی کے گریجوایٹ ہیں اور غزہ میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں ہونے والی فلسطینیوں کی نسل کشی کے خلاف اپنے کالج میں بہت سرگرم رہے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ نے اقتدار سنبھالنے کے کچھ ہی عرصہ بعد اسرائیل اور اسرائیلی جنگ کی مخالفت کرنے پر انہیں امریکہ سے نکالنے کی کوشش شروع کر دی تھی۔ لیکن انہیں جیل میں بند کرنے کے باوجود ٹرمپ انتظامیہ انہیں 'ڈی پورٹ' کرنے میں کامیاب نہ ہو سکی تھی۔

تاہم تب سے محمود خلیل اور ٹرمپ انتظامیہ کے درمیان عدالت میں رسہ کشی کا سلسلہ جاری ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے کوشش کی تھی کہ محمود خلیل کو امریکہ کے خارجہ امور کو نقصان پہنچانے کی بنیاد پر ملک سے 'ڈی پورٹ' کر دیا جائے۔ مگر عدالت نے انہیں 'ڈی پورٹ' کرنے سے روک دیا تھا۔ نیز محمود خلیل کو رہا کرنے کا بھی حکم جاری کر دیا۔

اب ایک بار پھر جب ٹرمپ انتطامیہ ایران کے خلاف جنگ میں الجھی ہونے کے باوجود اس معاملے کو دوبارہ سنجیدگی سے دیکھنا چاہتی ہے۔ محمود خلیل کا اپنے وکیلوں کے ذریعے کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ انہیں ملک سے 'ڈی پورٹ' کرنے کے لیے خفیہ طور پر دباؤ کے حربے استعمال کر کے امیگریشن حکام کو ہدایات دے رہی ہے۔

جمعہ کے روز اس سلےسلے میں امریکی محکمہ انصاف کے ذیلی شعبے بورڈ آف امیگریشن سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے کا از سر نو دیکھے۔ یاد رہے بورڈ آف امیگریشن نے 9 اپریل 2026 کو خلیل کی درخواست کو مسترد کر دیا تھا۔

محمود خلیل کے وکیلوں کا مؤقف ہے کہ بورڈ آف امیگریشن نے نچلی عدالتوں کے فیصلے کو نظر انداز کر کے فیصلہ کیا ہے۔ نیز یہ کہ عمومی قانونی ٹریک سے ہٹ کر تیزی سے معاملے کو بڑھایا گیا ہے تاکہ ٹرمپ انتظامیہ کی خواہش پوری کر کے خلیل کو ملک بدر کرسکے اور اس سے پہلے گرفتار بھی کیا جا سکے۔ اگرچہ عدالتی فیصلے مطابق کیس کے حتمی فیصلے تک محمود خلیل کو گرفتار نہیں کیا جا سکتا ہے۔

جبکہ ٹرمپ انتظامیہ محمود خلیل کو دوبارہ گرفتار کر کے اسے امیگریشن کے معاملے میں ایک مثال بنا دینا چاہتی ہے۔ تاکہ اسے 'ڈی پورٹ' کیے جانے کی بنیاد پر دوسرے بہت سے افراد کو بھی 'ڈی پورٹ' کیا جاسکے۔ تاہم اس بارے میں بورڈ آف امیگریشن نے تبصرہ کرنے کی درخواست پر کوئی فوری رد عمل نہیں دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں