ڈرونز کے خلاف کم لاگت والے ہتھیار... برطانیہ مشرق وسطیٰ میں اپنی موجودگی مضبوط بنا رہا ہے
اہداف کو انتہائی درستی کے ساتھ تباہ کرنے کے لیے ٹائفون طیاروں پر ایک نئے اسلحہ سسٹم کی تنصیب
برطانوی حکومت نے مشرق وسطیٰ میں اپنے فوجی آپریشنوں میں ڈرونز کے خلاف کم لاگت والا ہتھیار تعینات کرنے کا اعلان کیا ہے۔
یہ پیش رفت ٹائفون طیاروں پر ایک نیا اسلحہ سسٹم نصب کرنے کے ذریعے سامنے آئی ہے۔ اس سے روایتی میزائلوں کے مقابلے میں کم لاگت اور انتہائی درستی کے ساتھ اہداف کو تباہ کرنا ممکن ہو سکے گا۔
برطانیہ نے منگل کے روز کہا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آمد و رفت کو محفوظ بنانے کے مقصد سے شروع کیے جانے والے ایک کثیر القومی دفاعی مشن میں بارودی سرنگوں کا پتا لگانے والے خودکار آلات، "ٹائفون" جنگی طیارے اور "ڈریگن" جنگی تباہ کن جہاز بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
برطانوی حکومت کے ایک بیان میں جسے روئٹرز نیوز ایجنسی نے نقل کیا، کہا گیا ہے کہ برطانیہ "آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کے ایک کثیر القومی مشن میں ڈرونز، جنگی طیاروں اور ایک جنگی جہاز کے ذریعے حصہ لے گا"۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ آبنائے ہرمز میں کثیر القومی مشن میں برطانیہ کی شرکت میں بارودی سرنگوں کا پتا لگانے والے خودکار آلات، "ٹائفون" جنگی طیارے اور "ڈریگن" تباہ کن جہاز شامل ہوں گے۔
ذرائع نے اشارہ کیا کہ ہرمز میں برطانوی دفاعی مشن کو بارودی سرنگوں کا پتا لگانے والے ڈرونز اور اینٹی ڈرون سسٹمز کے لیے 11.5 کروڑ پاؤنڈ اسٹرلنگ کی نئی فنڈنگ کی مدد حاصل ہے۔
اسی تناظر میں برطانوی وزیر دفاع جون ہیلی نے کہا ہے کہ "ہمارے اتحادیوں کے ساتھ یہ کثیر القومی مشن دفاعی، خود مختار اور قابل اعتماد ہو گا"۔
گذشتہ پیر کو برطانوی حکومت نے کہا تھا کہ لندن اور پیرس منگل کے روز وزرائے دفاع کے ایک کثیر القومی اجلاس کی ميزبانی کریں گے تاکہ اس اسٹریٹجک آبنائے (ہرمز) کے ذریعے تجارتی آمد و رفت کی بحالی کے لیے فوجی منصوبوں پر غور کیا جا سکے۔
اس سے قبل فوجی منصوبہ سازوں نے گذشتہ اپریل میں، جنگ بندی تک پہنچنے کے بعد ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ کے لیے برطانیہ اور فرانس کی قیادت میں ایک مشن کے عملی پہلوؤں کا جائزہ لیا تھا۔
فرانس اور برطانیہ اس سے قبل مشرق وسطیٰ میں جنگی جہاز بھیج چکے ہیں... اور پیرس نے جوہری توانائی سے چلنے والے طیارہ بردار جہاز "شارل ڈی گول" کو خطے میں روانہ کیا تھا، جبکہ لندن نے گذشتہ ہفتے کے روز تباہ کن جہاز "ایچ ایم ایس ڈریگن" بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔
دونوں ممالک نے تصدیق کی کہ یہ اقدامات "جہاز رانی کی آمد و رفت کے تحفظ میں مدد کے لیے کسی بھی ممکنہ بین الاقوامی مشن سے پہلے پیشگی پوزیشننگ کے فریم ورک" کے تحت آتے ہیں۔
برطانوی وزارت دفاع کے ایک ترجمان نے فرانس پریس ایجنسی کو بتایا کہ "ایچ ایم ایس ڈریگن" کی تعیناتی "احتیاطی منصوبہ بندی" کا حصہ ہے جو اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ برطانیہ حالات سازگار ہونے پر آبنائے کو محفوظ بنانے میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار رہے۔ اس کے ساتھ ساتھ تجارتی جہاز رانی کے اعتماد کو بڑھانے اور بارودی سرنگیں ہٹانے کی کوششوں کی مدد کی جا سکے۔