ایران پر ناکہ بندی کے آغاز سے اب تک 81 بحری جہازوں کا رخ موڑا ہے: سینٹ کام

بحری جہاز ٹریپولی ناکہ بندی کے نفاذ میں شریک، سے اب تک امریکہ نے سمندر میں تقریباً 20 بحری جہاز تعینات کیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

گزشتہ 13 اپریل سے ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی کے تسلسل کے ساتھ امریکی سنٹرل کمنڈ (سینٹ کام ) نے تصدیق کی ہے کہ اس دوران امریکی فوج نے 81 بحری جہازوں کا رخ موڑنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ سینٹ کام نے اتوار کے روز ایکس پر ایک پوسٹ میں وضاحت کی کہ اس نے ناکہ بندی کے آغاز سے اب تک 81 تجارتی بحری جہازوں کا رخ موڑا ہے اور 4 جہازوں کو ناکارہ بنایا ہے۔

بحری جہاز ٹریپولی ناکہ بندی کے نفاذ میں شریک

امریکی سینٹ کام نے یہ بھی بتایا کہ امریکی برماوی حملہ آور بحری جہاز "ٹریپولی" ایرانی بندرگاہوں پر عائد ناکہ بندی کو نافذ کرنے میں حصہ لے رہا ہے۔ چند روز قبل سینٹ کام نے کہا تھا کہ امریکی فضائیہ کا ایک سٹیلتھ ایف-35 اے لڑاکا طیارہ آبنائے ہرمز کے قریب علاقائی پانیوں کے اوپر سے گزرا ہے۔

واضح رہے ایک طرف ایران اور دوسری طرف امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے آغاز سے اب تک امریکہ نے سمندر میں تقریباً 20 بحری جہاز تعینات کیے ہیں اور خطے میں ہزاروں فوجیوں اور سپاہیوں کی آمد سے انہیں مزید تقویت دی ہے۔ واشنگٹن نے گزشتہ 13 اپریل سے ایرانی بندرگاہوں پر ایک سخت بحری ناکہ بندی بھی نافذ کر رکھی ہے جس کے تحت تجارتی جہازوں کو وہاں آنے یا جانے سے روک دیا گیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تاکید کی ہے کہ یہ ناکہ بندی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک تہران کے ساتھ کوئی معاہدہ طے نہیں پا جاتا۔ دوسری طرف ایران نے نیوکلیئر معاملے پر کسی بھی مذاکرات سے پہلے اپنی بندرگاہوں سے ناکہ بندی ہٹانے کے مؤقف پر سختی سے قائم رہنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ ایران نے عملی طور پر تجارتی جہازوں کے لیے آبنائے ہرمز کو بند کر رکھا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں